سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب : امتحان السارق بالضرب والحبس
باب: اعتراف جرم کی خاطر چور کو مارنے یا قید میں ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4879
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حَبَسَ نَاسًا فِي تُهْمَةٍ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں قید میں رکھا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3630)، سنن الترمذی/الدیات21(1417)، (تحفة الأشراف: 11382)، مسند احمد (5/2، 4) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4879 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4879
اردو حاشہ:
تفتیش کے لیے نہ کہ بطور سزا کیونکہ جب تک ملزم کے خلاف الزام ثابت نہ ہو وہ مجرم نہیں بنتا۔ اور تفتیش کے لیے قید کے دوران میں اس پر تشدد نہیں کیا جاسکتا ورنہ تشدد کرنے والے کے خلاف قصاص کی کاروائی کی جائے گی۔
تفتیش کے لیے نہ کہ بطور سزا کیونکہ جب تک ملزم کے خلاف الزام ثابت نہ ہو وہ مجرم نہیں بنتا۔ اور تفتیش کے لیے قید کے دوران میں اس پر تشدد نہیں کیا جاسکتا ورنہ تشدد کرنے والے کے خلاف قصاص کی کاروائی کی جائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4879]
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري