سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : ما يكون حرزا وما لا يكون
باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
حدیث نمبر: 4886
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خِيَرَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ الْعَلَاءِ الْكُوفِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ صَفْوَانُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرِدَاؤُهُ تَحْتَهُ فَسُرِقَ، فَقَامَ وَقَدْ ذَهَبَ الرَّجُلُ , فَأَدْرَكَهُ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَلَغَ رِدَائِي أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ رَجُلٌ، قَالَ:" هَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ؟"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَشْعَثُ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ مسجد میں سو رہے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، کسی نے اسے چرایا تو وہ اٹھ گئے، اتنے میں آدمی جا چکا تھا، انہوں نے اسے پا لیا اور اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری چادر اس قیمت کی نہ تھی کہ کسی شخص کا ہاتھ کاٹا جائے ۱؎۔ آپ نے فرمایا: ”تو ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کر لیا“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اشعث ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4886]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے جبکہ ان کی چادر ان کے (سر کے) نیچے تھی۔ وہ چرا لی گئی۔ ان کو جاگ آئی تو چور جا چکا تھا۔ انہوں نے بھاگ کر اسے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری چادر اتنی قیمتی تو نہیں کہ اس کی بنا پر کسی آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ سوچی؟“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: (اس روایت کا راوی) اشعث ضعیف ہے (مقصد یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر اس روایت میں صحیح نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5985) (صحیح) (اشعث ضعیف راوی ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ ان کا اپنا ظن و گمان تھا ورنہ چادر کی قیمت چوری کے نصاب کی حد سے متجاوز تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4886 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4886
اردو حاشہ:
”اتنی قیمتی“ قیمتی تو تھی یعنی چوری کے نصاب کو پہنچ جاتی تھی اسی لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا مگر ان کا خیال تھا کہ ہاتھ تو بہت قیمتی ہے۔ اس کی دیت پچاس اونٹ ہے۔ اسے تیس درہم کی چوری کے عوض نہیں کاٹنا چاہیے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ اس وقت قیمتی ہے جب بے گناہ ہو۔ جب اس سے چوری جیسا گناہ کرلیا گیا تو اب یہ قیمتی نہ رہا۔ اب یہ چند درہم کے بدلے کاٹ دیا جائے گا۔ چوری کس قدر ذلیل کام ہے کہ پچاس اونٹ کی قیمت رکھنے والی چیز کو تین یا زیادہ سے زیادہ دس درہم کی بنا دیا۔
”اتنی قیمتی“ قیمتی تو تھی یعنی چوری کے نصاب کو پہنچ جاتی تھی اسی لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا مگر ان کا خیال تھا کہ ہاتھ تو بہت قیمتی ہے۔ اس کی دیت پچاس اونٹ ہے۔ اسے تیس درہم کی چوری کے عوض نہیں کاٹنا چاہیے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ اس وقت قیمتی ہے جب بے گناہ ہو۔ جب اس سے چوری جیسا گناہ کرلیا گیا تو اب یہ قیمتی نہ رہا۔ اب یہ چند درہم کے بدلے کاٹ دیا جائے گا۔ چوری کس قدر ذلیل کام ہے کہ پچاس اونٹ کی قیمت رکھنے والی چیز کو تین یا زیادہ سے زیادہ دس درہم کی بنا دیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4886]
Sunan an-Nasa'i Hadith 4886 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي