🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : ما يكون حرزا وما لا يكون
باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4886
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خِيَرَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ الْعَلَاءِ الْكُوفِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ صَفْوَانُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ، وَرِدَاؤُهُ تَحْتَهُ فَسُرِقَ، فَقَامَ وَقَدْ ذَهَبَ الرَّجُلُ , فَأَدْرَكَهُ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَلَغَ رِدَائِي أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ رَجُلٌ، قَالَ:" هَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنَا بِهِ؟"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَشْعَثُ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ صفوان رضی اللہ عنہ مسجد میں سو رہے تھے، ان کی چادر ان کے سر کے نیچے تھی، کسی نے اسے چرایا تو وہ اٹھ گئے، اتنے میں آدمی جا چکا تھا، انہوں نے اسے پا لیا اور اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے۔ آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری چادر اس قیمت کی نہ تھی کہ کسی شخص کا ہاتھ کاٹا جائے ۱؎۔ آپ نے فرمایا: تو ہمارے پاس لانے سے پہلے ہی ایسا کیوں نہ کر لیا۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اشعث ضعیف ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5985) (صحیح) (اشعث ضعیف راوی ہیں، لیکن پچھلی سند سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہ ان کا اپنا ظن و گمان تھا ورنہ چادر کی قیمت چوری کے نصاب کی حد سے متجاوز تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أشعث بن سوار الكندي
Newأشعث بن سوار الكندي ← عكرمة مولى ابن عباس
ضعيف الحديث
👤←👥الفضل بن العلاء الكوفي، أبو العباس، أبو العلاء
Newالفضل بن العلاء الكوفي ← أشعث بن سوار الكندي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن هشام السدوسي، أبو عبد الله
Newمحمد بن هشام السدوسي ← الفضل بن العلاء الكوفي
ثقة مصنف
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4886 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4886
اردو حاشہ:
اتنی قیمتی قیمتی تو تھی یعنی چوری کے نصاب کو پہنچ جاتی تھی اسی لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا مگر ان کا خیال تھا کہ ہاتھ تو بہت قیمتی ہے۔ اس کی دیت پچاس اونٹ ہے۔ اسے تیس درہم کی چوری کے عوض نہیں کاٹنا چاہیے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ ہاتھ اس وقت قیمتی ہے جب بے گناہ ہو۔ جب اس سے چوری جیسا گناہ کرلیا گیا تو اب یہ قیمتی نہ رہا۔ اب یہ چند درہم کے بدلے کاٹ دیا جائے گا۔ چوری کس قدر ذلیل کام ہے کہ پچاس اونٹ کی قیمت رکھنے والی چیز کو تین یا زیادہ سے زیادہ دس درہم کی بنا دیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4886]