یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : ما يكون حرزا وما لا يكون
باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
حدیث نمبر: 4887
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَسْبَاطٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُهَا ثَلَاثُونَ دِرْهَمًا , فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَ بِهِ لِيُقْطَعَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَتَقْطَعُهُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْهَمًا أَنَا أَبِيعُهُ وَأُنْسِئُهُ ثَمَنَهَا، قَالَ:" فَهَلَّا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟".
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اپنی ایک چادر پر سو رہا تھا، جس کی قیمت تیس درہم تھی، اتنے میں ایک شخص آیا اور مجھ سے چادر اچک لے گیا، پھر وہ آدمی پکڑا گیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے، تو میں نے آپ کے پاس آ کر عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ صرف تیس درہم کی وجہ سے کاٹ دیں گے؟ میں چادر اس کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں اور اس کی قیمت ادھار کر لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا تم نے اسے ہمارے پاس لانے سے پہلے کیوں نہیں کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4887]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں اپنی منقش (دھاری دار) چادر پر سویا ہوا تھا جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ ایک آدمی آیا اور اسے کھسکا لے گیا۔ وہ آدمی پکڑا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ میں آپ کے پاس آیا اور عرض کی: آپ صرف تیس درہم کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹ رہے ہیں؟ میں یہ چادر اس کو بیچ دیتا ہوں، قیمت اس سے بعد میں لے لوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”یہ سب کچھ میرے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟“ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4882 (منکر) (اس کا یہ ٹکڑا ”أبیعہ … منکر ہے، اور نکارت کے سبب حمید ہیں جو لین الحدیث ہیں باقی مشمولات صحیح ہیں)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥صفوان بن أمية القرشي، أبو وهب، أبو أمية | صحابي | |
👤←👥جعيد بن حجير جعيد بن حجير ← صفوان بن أمية القرشي | مقبول | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← جعيد بن حجير | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥أسباط بن نصر الهمداني، أبو يوسف، أبو نصر أسباط بن نصر الهمداني ← سماك بن حرب الذهلي | صدوق كثير الخطا يغرب | |
👤←👥عمرو بن حماد القناد، أبو محمد عمرو بن حماد القناد ← أسباط بن نصر الهمداني | صدوق رمي بالرفض | |
👤←👥أحمد بن عثمان الأودي، أبو عبد الله أحمد بن عثمان الأودي ← عمرو بن حماد القناد | ثقة |
Sunan an-Nasa'i Hadith 4887 in Urdu
جعيد بن حجير ← صفوان بن أمية القرشي