🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : ذكر الاختلاف على الزهري
باب: (اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی روایت میں) تلامذہ زہری کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4928
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ:" يُقْطَعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الصَّوَابُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ میں (چور کا ہاتھ) کاٹا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یحییٰ کی (مرفوع) روایت سے یہ (یعنی موقوف روایت) زیادہ صحیح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4926 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف ولا ينافي المرفوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 4928 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4928
اردو حاشہ:
امام نسائی کا مطلب یہ ہے کہ یحیٰ کی بیان کردہ مرفوع حدیث کے مقابلے میں ان کی بیان کردہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر موقوف روایت صحیح ہے۔ اور موقوف حدیث کے صحیح ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر رواۃ جو یحییٰ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے اسے موقوف بیان کیا ہے۔ عبداللہ بن مبارک، عبداللہ بن ادریس، سفیان بن عیینہ اور امام مالک رحمہ اللہ اس کے موقوف ہونے پر متفق ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي، الأنیوبي: 58/37) تاہم یہ اصحیت صرف یحییٰ کی روایت کے بارے میں ہے، دیگر طرق کے اعتبار سے نہیں کیونکہ دیگر طرق سے یہ روایت مرفوعا ثابت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4928]