🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : تفاضل أهل الإيمان
باب: ایمان میں ایک مسلمان کا دوسرے سے زیادہ ہونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5010
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار کا ایمان ہڈیوں کے پوروں تک بھر گیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5010]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار (رضی اللہ عنہ) کناروں تک ایمان سے لبالب بھرا ہوا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15653) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عمار رضی اللہ عنہ کا ایمان بعض لوگوں سے زیادہ تھا، اس سے ایک دوسرے کا ایمان میں کم و بیش ہونا ثابت ہوا، سلف کا یہی عقیدہ ہے کہ ایمان میں کمی زیادتی خود ہر آدمی کے حساب سے بھی ہوتی ہے، نیز ایک دوسرے کے مقابلے میں بھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الأعمش عنعن وهومدلس. وانظر سنن ابن ماجه (147 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 359


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عمرو بن شرحبيل الهمداني، أبو ميسرة
Newعمرو بن شرحبيل الهمداني ← اسم مبهم
ثقة
👤←👥عريب بن حميد الهمداني، أبو عمار
Newعريب بن حميد الهمداني ← عمرو بن شرحبيل الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عريب بن حميد الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة حافظ
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب
Newإسحاق بن منصور الكوسج ← عمرو بن علي الفلاس
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5010 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5010
اردو حاشہ:
(1) یہ اٹل حقیقت ہے کہ ایمان میں سب مومن ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے ان کا درجہ اور مرتبہ بھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ باب کا مقصد بھی یہی ہے کہ ایمان کم وبیش ہوسکتا ہے، نیز جو لوگ ایمانی کایمان جبریل میرا ایمان حضرت جبر یل علیہ السلام  کے ایمان جیسا ہے کے قائل ہیں، وہ درست نہیں کہتے۔ ایمان میں کمی بیشی قطعی امر ہے۔ (ایمان کی تفسیر کے لیے دیکھیے، کتا ب الایمان)
(2) کنا روں تک عربی میں لفظ مشاش استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہڈیوں کے آخری کنارے ہیں، مثلا: کہنیا ں، گھٹنے، ٹخنے، کندھے وغیر ہ۔ اس میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی عظیم فضلیت ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کےایمان کی تعریف فرما رہے ہیں۔ رضي اللہ عنه وأرضاہ
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5010]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5010 in Urdu