سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : تفاضل أهل الإيمان
باب: ایمان میں ایک مسلمان کا دوسرے سے زیادہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5011
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جب بری بات دیکھے تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ کے ذریعہ دور کر دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنے دل کے ذریعہ اس کو دور کر دے، یہ ایمان کا سب سے کمتر درجہ ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5011]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص برا کام ہوتا دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ سے ختم کر دے اور اگر طاقت نہ ہو تو زبان کے ساتھ روکے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے برا جانے، اور یہ (آخری درجہ) کمزور ترین ایمان ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، الملاحم 17 (4340)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1275)، (تحفة الأشراف: 4085)، مسند احمد (3/10، 20، 49، 54، 92) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی ٹکڑے میں باب سے مطابقت ہے یعنی جو دل کے ذریعہ برائی کو ختم کرے گا وہ ہاتھ اور زبان کے ذریعہ برائی کو دور کرنے والے سے ایمان میں کم ہو گا اور دل کے ذریعہ ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو برا جانے اور اس سے دور رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥طارق بن شهاب البجلي، أبو عبد الله طارق بن شهاب البجلي ← أبو سعيد الخدري | له رؤية | |
👤←👥قيس بن مسلم الجدلي، أبو عمرو قيس بن مسلم الجدلي ← طارق بن شهاب البجلي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← قيس بن مسلم الجدلي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5011 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5011
اردو حاشہ:
(1) یہ حدیث مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا ضروری ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان فلیغیرہ ”اسے مٹا ڈال“ اس کا بین ثبوت ہے۔ لیکن یہ فرضیت فرض کفایہ کے طور پر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر)(آل عمران 3:104) ”تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر وبھلائی کیطرف بلائے اور وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سےروکنے۔“
(2) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کافریضہ سر انجام دینے والے کے لیے دوشرطین ہیں: ایک یہ کہ اسے علم ہو کہ جس بات کاوہ حکم دے رہا ہے وہ شرعا ”معروف“ یعنی نیکی ہی ہے اور جس بات سے وہ روک رہا ہے، شریعت میں وہ واقعی ”منکر“ یعنی ناروا اور جائز کام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی جاہل یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔
(3) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کچھ مراتب ودرجات ہیں: پہلا درجہ یہ کہ برائی کو ہاتھ سے روکا جائے۔ زبان سے روکنا دوسرا درجہ ہے۔ کم زور ترین اور آخری درجہ یہ ہے کہ صرف دل میں برا سمجھے۔ اگر یہ بھی نہیں ہےتو پھر اس کے پلے میں کچھ بھی نہیں۔ایسا شخص ایمان سے خالی ہے، تاہم اس کے لیے حکمت عملی سےکام لینا ضروری ہے۔ لڑائی جھگڑا سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ اس کے نقصانات،فوائد سے زیادہ ہیں۔
(4) ”اپنے ہاتھ سےختم کرے“ کا طلب ہے کہ اگر وہ صاحب اقتدار ہو کیونکہ عام آدمی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ورنہ اس یے انار کی اور بدامنی پیدا ہوگی۔ حدود کانفاذ بھی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ افراد انھیں نافذ نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے مکلف ہیں۔ تبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت اور طاقت کی شرط لگائی ہے۔
(5) ”زبان کے ساتھ“ یہ ہر شخص کی ذمے داری ہے کیونکہ زبان کا استعمال تو ہر شخص کے اختیار میں ہے، الا یہ کہ مرتبہ کم ہو، مثلا اولاد ماں باپ ک سامنے، شاگرد استاد کے سامنے، محکوم حاکم کے سامنے اور غلام آقا کے سامنے بولنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یا جب جان جانے کا خطرہ ہو جیسا کہ آگے حدیث میں آرہا ہے۔
(6) ”کم زور ترین ایمان“ معلوم ہوا ایمان قوی اور کمزور ہو سکتا ہے۔ یہی باب کامقصد ہے۔ آخری درجے کو کمزور ترین کہنا برائی کے خاتمے کے لحاظ سے ہے، یعنی اس سے برائی ختم ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ باقی رہا ثواب کے لحاظ سے تو وہ دوسروں کے برابر ہو سکتا ہے کیونکہ ہر شخص اپنے مرتبے اورفرائض کے حساب ہی جواب دہ ہے (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا) (البقرۃ2:286)
(1) یہ حدیث مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینا ضروری ہے۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان فلیغیرہ ”اسے مٹا ڈال“ اس کا بین ثبوت ہے۔ لیکن یہ فرضیت فرض کفایہ کے طور پر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر)(آل عمران 3:104) ”تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر وبھلائی کیطرف بلائے اور وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سےروکنے۔“
(2) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کافریضہ سر انجام دینے والے کے لیے دوشرطین ہیں: ایک یہ کہ اسے علم ہو کہ جس بات کاوہ حکم دے رہا ہے وہ شرعا ”معروف“ یعنی نیکی ہی ہے اور جس بات سے وہ روک رہا ہے، شریعت میں وہ واقعی ”منکر“ یعنی ناروا اور جائز کام ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی جاہل یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتا۔
(3) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کچھ مراتب ودرجات ہیں: پہلا درجہ یہ کہ برائی کو ہاتھ سے روکا جائے۔ زبان سے روکنا دوسرا درجہ ہے۔ کم زور ترین اور آخری درجہ یہ ہے کہ صرف دل میں برا سمجھے۔ اگر یہ بھی نہیں ہےتو پھر اس کے پلے میں کچھ بھی نہیں۔ایسا شخص ایمان سے خالی ہے، تاہم اس کے لیے حکمت عملی سےکام لینا ضروری ہے۔ لڑائی جھگڑا سے اجتناب ضروری ہے کیونکہ اس کے نقصانات،فوائد سے زیادہ ہیں۔
(4) ”اپنے ہاتھ سےختم کرے“ کا طلب ہے کہ اگر وہ صاحب اقتدار ہو کیونکہ عام آدمی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ورنہ اس یے انار کی اور بدامنی پیدا ہوگی۔ حدود کانفاذ بھی حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ افراد انھیں نافذ نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے مکلف ہیں۔ تبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت اور طاقت کی شرط لگائی ہے۔
(5) ”زبان کے ساتھ“ یہ ہر شخص کی ذمے داری ہے کیونکہ زبان کا استعمال تو ہر شخص کے اختیار میں ہے، الا یہ کہ مرتبہ کم ہو، مثلا اولاد ماں باپ ک سامنے، شاگرد استاد کے سامنے، محکوم حاکم کے سامنے اور غلام آقا کے سامنے بولنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یا جب جان جانے کا خطرہ ہو جیسا کہ آگے حدیث میں آرہا ہے۔
(6) ”کم زور ترین ایمان“ معلوم ہوا ایمان قوی اور کمزور ہو سکتا ہے۔ یہی باب کامقصد ہے۔ آخری درجے کو کمزور ترین کہنا برائی کے خاتمے کے لحاظ سے ہے، یعنی اس سے برائی ختم ہونے کا امکان بہت کم ہے۔ باقی رہا ثواب کے لحاظ سے تو وہ دوسروں کے برابر ہو سکتا ہے کیونکہ ہر شخص اپنے مرتبے اورفرائض کے حساب ہی جواب دہ ہے (لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا) (البقرۃ2:286)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5011]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5011 in Urdu
طارق بن شهاب البجلي ← أبو سعيد الخدري