سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ : الأَخْذِ مِنَ الشَّعْرِ
باب: مونچھ کاٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5055
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخُو قَبِيصَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ لِي:" لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے سر پر (لمبے) بال تھے، آپ نے فرمایا: ”نحوست ہے“، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں، چنانچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تم سے نہیں کہا تھا، لیکن یہ بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5055]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میرے لمبے لمبے بال تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ذُبَابٌ ذُبَابٌ» ”نحوست ہے (یہ بری چیز ہے)۔“ میں نے سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ میری طرف ہے، میں نے اپنے بال کاٹ دیے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ» ”میرا اشارہ تیری طرف نہیں تھا۔ ویسے یہ تیری زیادہ اچھی حالت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 11 (4190)، سنن ابن ماجہ/اللباس 37 (3636)، (تحفة الأشراف: 11782)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5069) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں «الأخذ من الشعر» ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4190
| لم أعنك وهذا أحسن |
سنن ابن ماجه |
3636
| لم أعنك وهذا أحسن |
سنن النسائى الصغرى |
5069
| لم أعنك وهذا أحسن |
سنن النسائى الصغرى |
5055
| لم أعنك وهذا أحسن |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5055 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5055
اردو حاشہ:
(1) مذکورہ حدیث اور عنوان کی باہم مطابقت نہیں ہے۔ ہاں! یہ مطابقت اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ یہ باب اس طرح ہو ”الأخذ من الشعر“ جیسا کہ بعض نسخوں میں انہیں الفاظ سے عنوان قائم کیا گیا ہے۔ دیکھیے (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:38؍18)۔
(2) یہ حدیث مبارکہ صحابۂ کرامرضی اللہ عنہم کی عظمت پر بھی صریح دلالت کرتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی کس طرح تعمیل کرتے تھے کہ حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سےلفظ ذباب ”نحوست ہے“ سنا توفوراً جا کر اپنے لمبے بال کٹوادیے۔ انہوں نے یہ کام اس لیے کیا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ میرے بالوں کی مذمت کررہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگرچہ بال کٹوانے کاحکم نہیں دیا تھا، تاہم آپ نے حضرت وائل رضی اللہ عنہ کے فعل کی تحسین فرمائی۔
(3) بہت زیادہ لمبے بال رکھنا مناسب نہیں کہ حد اعتدال ہی سے نکل جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت وائل رضی اللہ عنہ کے لمبے بال کٹوا دینے کے عمل کو سراہا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بال مبارک آپ کے مبارک شانوں (کندھوں) سے زیادہ نیچے نہیں جایا کرتے تھے۔ ہر شخص کو بالخصوص ہر مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنی چاہیے۔
(4) معلوم ہوا بال کٹوانا اچھی بات ہے۔ بہت لمبے بال رکھنا عورتوں سے مشابہت ہے۔
(1) مذکورہ حدیث اور عنوان کی باہم مطابقت نہیں ہے۔ ہاں! یہ مطابقت اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ یہ باب اس طرح ہو ”الأخذ من الشعر“ جیسا کہ بعض نسخوں میں انہیں الفاظ سے عنوان قائم کیا گیا ہے۔ دیکھیے (ذخیرۃ العقبیٰ شرح سنن النسائی:38؍18)۔
(2) یہ حدیث مبارکہ صحابۂ کرامرضی اللہ عنہم کی عظمت پر بھی صریح دلالت کرتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی کس طرح تعمیل کرتے تھے کہ حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سےلفظ ذباب ”نحوست ہے“ سنا توفوراً جا کر اپنے لمبے بال کٹوادیے۔ انہوں نے یہ کام اس لیے کیا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آپ میرے بالوں کی مذمت کررہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اگرچہ بال کٹوانے کاحکم نہیں دیا تھا، تاہم آپ نے حضرت وائل رضی اللہ عنہ کے فعل کی تحسین فرمائی۔
(3) بہت زیادہ لمبے بال رکھنا مناسب نہیں کہ حد اعتدال ہی سے نکل جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت وائل رضی اللہ عنہ کے لمبے بال کٹوا دینے کے عمل کو سراہا اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بال مبارک آپ کے مبارک شانوں (کندھوں) سے زیادہ نیچے نہیں جایا کرتے تھے۔ ہر شخص کو بالخصوص ہر مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرنی چاہیے۔
(4) معلوم ہوا بال کٹوانا اچھی بات ہے۔ بہت لمبے بال رکھنا عورتوں سے مشابہت ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5055]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4190
کندھے سے نیچے بالوں کو بڑھانے کا بیان۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”نحوست ہے، نحوست“ تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4190]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میرے بال لمبے تھے تو جب آپ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”نحوست ہے، نحوست“ تو میں واپس لوٹ گیا اور جا کر اسے کاٹ ڈالا، پھر دوسرے دن آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تیرے ساتھ کوئی برائی نہیں کی، یہ اچھا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4190]
فوائد ومسائل:
لمبے بال رکھے جا سکتے ہیں، جیسے کہ گزشتہ باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے بارے میں بیان گزرا ہے۔
مگر مردوں کے بالوں کا کندھوں سے نیچے ہونا جائز نہیں۔
لمبے بال رکھے جا سکتے ہیں، جیسے کہ گزشتہ باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے بارے میں بیان گزرا ہے۔
مگر مردوں کے بالوں کا کندھوں سے نیچے ہونا جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4190]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3636
بڑے بال رکھنے کی کراہت کا بیان۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: ”منحوس ہے منحوس“، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3636]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا: ”منحوس ہے منحوس“، یہ سن کر میں چلا آیا، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ”میں نے تم کو نہیں کہا تھا، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3636]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور چیز کے بارے میں فرمایا تھا لیکن صحابی نے سمجھا کہ میرے بالوں کے بارے میں فرمایا ہے۔
(2)
صحابہ کرام حکم کی تعمیل میں اس قدر مستعد تھے کہ صرف اشارے پر عمل کر لیا۔
یہ بھی پوچھنا ضروری نہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسے فرما رہے ہیں اور آپ کا کیا مطلب ہے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بالوں کو زیادہ اچھے فرمایا اور پسند کیا۔
اس سے امام ابن ماجہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد کے لیے زیادہ لمبے بال رکھنا ناپسندیدہ ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور چیز کے بارے میں فرمایا تھا لیکن صحابی نے سمجھا کہ میرے بالوں کے بارے میں فرمایا ہے۔
(2)
صحابہ کرام حکم کی تعمیل میں اس قدر مستعد تھے کہ صرف اشارے پر عمل کر لیا۔
یہ بھی پوچھنا ضروری نہ سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسے فرما رہے ہیں اور آپ کا کیا مطلب ہے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹے بالوں کو زیادہ اچھے فرمایا اور پسند کیا۔
اس سے امام ابن ماجہ نے یہ استنباط کیا ہے کہ مرد کے لیے زیادہ لمبے بال رکھنا ناپسندیدہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3636]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5069
لمبے بال رکھنے کا بیان۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا: ”نحوست ہے“، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا: ”نحوست ہے“، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
اردو حاشہ:
زیادہ لمبے بالوں کی حفاظت مشکل ہوتی ہے، نیز اس میں عورتوں سے مشابہت ہے، لہذا کٹوا لینے چاہییں۔
زیادہ لمبے بالوں کی حفاظت مشکل ہوتی ہے، نیز اس میں عورتوں سے مشابہت ہے، لہذا کٹوا لینے چاہییں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5069]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5055 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي