🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب : المستوصلة
باب: بال جوڑوانے والی عورت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5101
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے سر پر بال بہت کم ہیں، کیا میرے لیے صحیح ہو گا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ (قرآن) میں ہے؟ کہا: نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے کتاب اللہ (قرآن) میں بھی پاتا ہوں …، اور پھر آگے حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9584)، مسند احمد (1/415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥يحيى بن الجزار العرني
Newيحيى بن الجزار العرني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
صدوق رمي بالغلو في التشيع
👤←👥الحسن بن عبد الله العرني
Newالحسن بن عبد الله العرني ← يحيى بن الجزار العرني
ثقة
👤←👥عزرة بن عبد الرحمن الخزاعي
Newعزرة بن عبد الرحمن الخزاعي ← الحسن بن عبد الله العرني
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← عزرة بن عبد الرحمن الخزاعي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥موسى بن خلف العمي، أبو خلف
Newموسى بن خلف العمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
صدوق حسن الحديث
👤←👥خلف بن موسى العمي
Newخلف بن موسى العمي ← موسى بن خلف العمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن منصور النسائي، أبو سعيد
Newعمرو بن منصور النسائي ← خلف بن موسى العمي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5101 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5101
اردو حاشہ:
(1) کتاب اللہ میں پاتا ہوں یعنی انہوں نے قرآن کی اس عمومی دلیل ﴿وَما ءاتىكُمُ الرَّ‌سولُ فَخُذوهُ وَما نَهىكُم عَنهُ فَانتَهوا﴾ کے پیش نظر جعلی بال نہ لگانے کو قرآن کا حکم قرار دیا کیونکہ آپ کی بات کو ماننا قرآن کاحکم ہے۔ لیکن اپنے اجتہاد سے مستنبط کیے گئے مسائل کی نسبت اللہ تعالی کی طرف یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا درست نہیں ہے، مثلاً: قیاسی مسائل کی بابت کہنا کہ یہ اللہ تعالی یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، یہ درست نہیں، اس لیے اس سے محتاط رہنا بہت ضروری ہے۔ واللہ أعلم۔
(2) یہ حدیث مفصلاً صحیح مسلم میں آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے بالوں والی عورت بھی جعلی بال نہیں لگا سکتی کیونکہ اس میں جعل سازی اور دھوکا دہی پائی جاتی ہے، نیز تھوڑے زیادہ کی کوئی حدبندی نہیں۔ اس طرح تو ہر عورت کہہ سکتی ہے کہ میرے بال تھوڑے ہیں۔ جو چیز شریعت نے ناجائز اور حرام قرار دی ہے وہ ناجائزاور حرام ہی ہے اس میں قطعاً دوسری کوئی رائے نہیں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5101]