🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. بَابُ: الْمُسْتَوْصِلَةِ
باب: بال جوڑوانے والی عورت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5098
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُوتَشِمَةَ". أَرْسَلَهُ الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) ولید بن ہشام نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5098]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعلی بال لگانے والی، لگوانے والی، رنگ بھرنے والی اور بھروانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ ولید بن ابو ہشام نے اس روایت کو مرسل بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8107)، ویأتي عند المؤلف: 5253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5099
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَعَنَ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
نافع سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی، گودنے والی اور گودوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5099]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعلی بال ملانے والی، ملوانے والی، گودنے والی (جسم کے مختلف حصوں میں چھید کر رنگ بھرنے والی یا جسم پر نقش و نگار بنانے والی) اور گدوانے والی (جسم کے مختلف حصوں کو چھدوا کر ان میں رنگ بھروانے والی یا جسم کے مختلف حصوں پر چھدوا کر نقش و نگار کرانے والی) عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن ابی داود/الترجل 5 (4168)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2784)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1759)، مسند احمد (2/21)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5251 و 5253 (صحیح) (یہ مرسل ہے لیکن اوپر کی حدیث میں نافع نے اسے ابن عمر سے روایت کیا ہے اس سے تقویت پاکر یہ صحیح لغیرہ ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5100
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بال جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورت پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5100]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جعلی بال لگانے والی اور لگوانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 94 (5205)، اللباس 83 (5934)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2123)، (تحفة الأشراف: 17849)، مسند احمد (6/111، 116، 228) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5101
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ مَسْرُوقٍ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ زَعْرَاءُ أَيَصْلُحُ أَنْ أَصِلَ فِي شَعْرِي؟ فَقَالَ: لَا، قَالَتْ: أَشَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ , وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسروق سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے سر پر بال بہت کم ہیں، کیا میرے لیے صحیح ہو گا کہ میں اپنے بال میں کچھ بال جوڑ لوں؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ (قرآن) میں ہے؟ کہا: نہیں، بلکہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اور اسے کتاب اللہ (قرآن) میں بھی پاتا ہوں …، اور پھر آگے حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5101]
حضرت مسروق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے سر کے بال نہ ہونے کے برابر ہیں تو کیا میں جعلی بال لگا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ وہ کہنے لگی: کیا یہ بات آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی یا کتاب اللہ میں پائی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی سنی اور میں اسے کتاب اللہ میں بھی پاتا ہوں۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9584)، مسند احمد (1/415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں