🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب : الطيب
باب: خوشبو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5260
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطِيبٍ لَمْ يَرُدَّهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب بھی خوشبو لائی گئی، آپ نے اسے لوٹایا نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 9 (2582)، اللباس 80 (5929)، سنن الترمذی/الْٔدب 37 (الاستئذان 71) 2789، الشمائل 32 (208)، (تحفة الأشراف: 499)، مسند احمد (3/118، 133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثمامة بن عبد الله الأنصاري
Newثمامة بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عزرة بن ثابت الأنصاري
Newعزرة بن ثابت الأنصاري ← ثمامة بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← عزرة بن ثابت الأنصاري
ثقة حافظ إمام
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5929
لا يرد الطيب
صحيح البخاري
2582
لا يرد الطيب
جامع الترمذي
2789
لا يرد الطيب
سنن النسائى الصغرى
5260
أتي بطيب لم يرده
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5260 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5260
اردو حاشہ:
1۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشبو استعمال کرنا پسندیدہ عمل ہے نیز کوئی شخص خوشبو کا ہدیہ دے تو اسے قبول کر لینا چاہیے رد نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دوسری حدیث میں خوشبو کےساتھ دو اور چیزوں کا بھی ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ثلاث لا ترد: الوسائد والدهن واللبن ] الدهن: يعنى به الطيب] (جامع الترمذى، الأدب،حديث:2790)تین چیزوں ایسی ہیں کہ (کسی کو ہدیتاً دی جائیں تو) وہ ردنہ کی جائیں: سرہانہ و تکیہ (گدوغالیچہ) تیل اور دودھ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ تیل سے مراد خوشبو ہے۔ 2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو سے خصوصی لگاؤ تھا کیونکہ آپ کے پاس فرشتوں کا آنا جانا رہتا تھا فرشتے بدبو سے نفرت کرتے ہیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت بہترین خوشبو سےمعطر رہتے تھے۔ خود آپ کا جسم مبارک بھی ذاتی طور پر خوشبو دار تھا۔ فداء ابی ونفسی وروحی صلی اللہ علیہ وسلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5260]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2789
خوشبو واپس کر دینا ناپسندیدہ اور مکروہ کام ہے۔
ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انس رضی الله عنہ خوشبو (کی چیز) واپس نہیں کرتے تھے، اور انس رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو واپس نہ کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2789]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ اگر خوشبو جیسی چیز آتی تو آپ اسے بھی واپس نہیں کرتے تھے،
اس لیے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہدیہ کی ہوئی خوشبو کو واپس نہیں کرنا چاہیے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2789]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2582
2582. عزرہ بن ثابت انصاری سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں ثمامہ بن عبداللہ کے پاس گیا تو انھوں نے مجھے خوشبو کا تحفہ دیا اور کہا کہ حضرت انس ؓ خوشبو رد نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے حضرت انس ؓ کے حوالے سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو واپس نہیں کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2582]
حدیث حاشیہ:
(1)
جامع ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تین چیزیں واپس نہ کی جائیں:
تکیہ، تیل اور دودھ۔
(جامع الترمذي، الاستئذان، حدیث: 2790)
امام بخاری ؒ نے عنوان قائم کر کے مذکورہ حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔
حدیث میں تیل سے مراد خوشبو ہے۔
آپ نے اسے واپس نہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ اس کے دینے میں آسانی اور اس کا فائدہ بھی زیادہ ہے۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خوشبو کا اپنے پاس رکھنا آسان اور اس کی مہک بہترین اور عمدہ ہوتی ہے۔
(صحیح مسلم، الألفاظ من الأدب وغیرھا، حدیث: 5883(2253)
لیکن اس روایت میں طیب کے بجائے "ریحان" کے الفاظ ہیں۔
بہرحال لفظ طیب محفوظ اور زیادہ قرین قیاس ہے۔
(فتح الباري: 258/5) (2)
خوشبو اگرچہ معمولی چیز ہے، تاہم اسے واپس کرنے سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس نہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ معمولی سی بات پر بڑا نقصان کر لیا جائے، نیز یہ بات دلداری اور حوصلہ افزائی کے بھی خلاف ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2582]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5929
5929. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ خوشبو کو رد نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو رد نہیں کیا کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5929]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کوئی شخص خوشبو کا تحفہ پیش کرتا تو آپ اسے خوشی سے قبول کرتے اور اسے رد نہ کرتے تھے کیونکہ آپ کو اس کی ہمیشہ ضرورت رہتی تھی۔
آپ فرشتوں سے سرگوشی کرتے تھے، ایسے حالات میں آپ کا صاف ستھرا اور پاک رہنا انتہائی ضروری تھا۔
اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
جسے خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اس کی مہک عمدہ ہوتی ہے اور اس کا کوئی بوجھ بھی نہیں ہوتا۔
(سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4172) (2)
خوشبودار پھول یا عطر کوئی بڑا بھاری بوجھ نہیں ہوتا جو ناقابل برداشت ہو اور کوئی اتنا بڑا احسان بھی نہیں ہوتا کہ اس کا عوض دینا مشکل ہو یا اس کا عوض نہ دینے سے کوئی شکوہ کرے تو ایسی چیز کو رد کیوں کیا جائے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5929]