🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : أول وقت العشاء
باب: عشاء کے اول وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قال: أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ جَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ الشَّفَقُ جَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ فِي الصُّبْحِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَقَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ كُلُّهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور عصر پڑھیں، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور مغرب پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اٹھیں اور عشاء پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہو گئی، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا فرمائی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز پڑھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی، پھر انہوں نے کہا: ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 527]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام زوالِ شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور ظہر کی نماز پڑھیے، جب سورج ڈھل گیا۔ پھر ٹھہرے حتیٰ کہ جب آدمی کا سایہ اس کے برابر ہو گیا تو وہ عصر کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عصر کی نماز پڑھیے۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے حتیٰ کہ جب سورج غروب ہو گیا تو پھر آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور مغرب کی نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور مغرب کی نماز پڑھی جب سورج پورا ڈوب گیا۔ پھر ٹھہرے حتیٰ کہ جب سرخی غائب ہو گئی تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عشاء کی نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آپ کے پاس آئے جب صبح کو فجر کی روشنی چمک اٹھی اور کہا: اٹھیے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر اگلے دن آپ کے پاس آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور کہا: اٹھیے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اور نماز پڑھیے تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے جب آدمی کا سایہ دگنا ہو گیا اور کہا: اٹھیے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اور نماز پڑھیے، تو آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ مغرب کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے جب سورج غروب ہوا، کل والے وقت پر ہی اور کہا: اٹھیے اور نماز پڑھیے تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر وہ عشاء کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر چکا تھا اور کہا: اٹھیے اور نماز پڑھیے تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر وہ صبح کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے اور جب خوب روشنی ہو چکی تھی اور کہا: اٹھیے اور نماز پڑھیے تو آپ نے صبح کی نماز پڑھی۔ پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے: تمام نمازوں کا وقت ان دو دنوں کی نمازوں کے درمیان ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 1 (150) نحوہ، (تحفة الأشراف: 3128)، مسند احمد 3/330، 331 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥وهب بن كيسان القرشي، أبو نعيم
Newوهب بن كيسان القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥الحسين بن علي الهاشمي، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الهاشمي ← وهب بن كيسان القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← الحسين بن علي الهاشمي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 527 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 527
527 ۔ اردو حاشیہ: عشاء کا اول وقت وہی ہے جو مغرب کا آخری وقت ہے، یعنی غروب شفق۔ (تفصیلی بحث کے لیے دیکھیے حدیث: 523)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 527]

Sunan an-Nasa'i Hadith 527 in Urdu