🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب : ذكر النهى عن الثياب القسية
باب: ریشمی کپڑوں کے پہننے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5311
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ نَهَانَا عَنْ: خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَالْقَسِّيَّةِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْحَرِيرِ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5311]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں کا حکم دیا اور سات سے منع فرمایا، آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھیوں، چاندی کے برتنوں، ریشمی گدیلوں، قسی کپڑوں، موٹے، باریک اور عام ریشم پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1941 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سب ریشم کی اقسام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥معاوية بن سويد المزني، أبو سويد
Newمعاوية بن سويد المزني ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي
Newأشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← معاوية بن سويد المزني
ثقة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← أشعث بن أبي الشعثاء المحاربي
ثقة متقن
👤←👥سليمان بن منصور البلخي، أبو هلال، أبو الحسن
Newسليمان بن منصور البلخي ← سلام بن سليم الحنفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5650
عن خاتم الذهب لبس الحرير الديباج الإستبرق عن القسي الميثرة أمرنا أن نتبع الجنائز نعود المريض نفشي السلام
جامع الترمذي
1760
ركوب المياثر
سنن النسائى الصغرى
5311
نهانا عن خواتيم الذهب عن آنية الفضة عن المياثر القسية الإستبرق الديباج الحرير
سنن ابن ماجه
3589
عن الديباج الحرير الإستبرق
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2817
من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الآخرة
سنن ابن ماجه
3601
عن المفدم المشبع بالعصفر
سنن ابن ماجه
3643
عن خاتم الذهب
سنن النسائى الصغرى
5162
نهى عن لبس الذهب إلا مقطعا
سنن النسائى الصغرى
5311
الحرير قال نهى عنه
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5311 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5311
اردو حاشہ:
(1) قسی کپڑوں اور ریشمی گدیلوں کی تفصیل کےبارے میں ملاحظہ فرمائیں، احادیث:5168، 5169۔
(2) موٹے، باریک اور عام ریشم عربی میں استبرق، دیباج اور حریر کے لفظ آئے ہیں۔ یہ تینوں ریشم کی اقسام ہیں۔ تفصیل احادیث 5301، 5302 میں گزر چکی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر قسم کے ریشم کے استعمال سے منع فرمایا گیا مگر یہ نہی مردوں کےلیے ہے البتہ چاندی کے برتنوں اور ریشمی گدیلوں سے نہی سے مرد وعورت سب کے لیے ہے کیونکہ یہ مشترکہ استعمال کی اشیاء ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5311]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3589
ریشمی کپڑے پہننے کی حرمت کا بیان۔
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کے لیے) دیباج، حریر اور استبرق (موٹا ریشمی کپڑا) پہننے سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3589]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ریشم سے مراد وہ ریشہ ہے جسے ریشم کا کیڑا تیا ر کرتا ہے۔
مصنوعی طور پر بنائے ہوئے دھاگے جو ریشم سے مشابہ ہوں ریشم میں شامل نہیں اگرچہ لوگ انھیں ریشم ہی کہتے ہیں۔

(2)
دیباج کی تشریح النہایہ میں یوں کی گئی ہے:
(الثياب المتخذة من الابريسم)
ابریشم کے بنے ہوئے کپڑے۔
جبکہ المنجد میں اس لفظ کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے۔
وہ کپڑا جس کا تانا اور بانا (دونوں)
ریشم کے ہوں۔

(3)
ریشم سے ممانعت صرف مردوں کے لیے ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 3595)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3589]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5650
5650. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا تھا: ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، دیبا، استبرق پہننے سے اور قسی و میثرہ ریشمی کپڑوں کی دیگر جملہ اقسام سے منع فرمایا تھا، نیز آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم جنازے کے پیچھے چلیں، مریض کی عیادت کریں اور سلام کو عام کریں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5650]
حدیث حاشیہ:
اس روایت میں راوی نے بہت سی باتیں چھوڑ دی ہیں ساتویں بات جو منع ہے وہ چاندی کے برتن میں کھانا اور پینا مراد ہے۔
مریض کی مزاج پرسی کرنا بہت بڑا کار ثواب ہے جیسا کہ مسلم میں ہے۔
"إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " مسلمان جب اپنے بھائی مسلمان کی عیادت کرتا ہے اس اثنا میں وہ ہمیشہ گویا جنت کے باغوں کی سیر کررہا اور وہاں میوے کھا رہا ہے۔
وفقنا اللہ لما یحب و یرضی آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5650]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5650
5650. حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا تھا: ہمیں آپ نے سونے کی انگوٹھی، ریشم، دیبا، استبرق پہننے سے اور قسی و میثرہ ریشمی کپڑوں کی دیگر جملہ اقسام سے منع فرمایا تھا، نیز آپ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم جنازے کے پیچھے چلیں، مریض کی عیادت کریں اور سلام کو عام کریں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5650]
حدیث حاشیہ:
(1)
احادیث کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے کہ عیادت کے لیے مریض کی بیماری کے وقت کوئی پابندی نہیں ہے جب بھی انسان کو فرصت ملے، بیمار پرسی کی جا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار کی تیمارداری تین دن گزر جانے کے بعد کرتے تھے۔
(سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1437)
لیکن اس کی سند انتہائی کمزور ہے۔
امام ابو حاتم نے تو اسے باطل قرار دیا ہے۔
تیمارداری میں حالات کی نزاکت کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
ایسا نہ ہو کہ اہل خانہ تنگ پڑ جائیں۔
تیمارداری کرتے وقت مریض کو تسلی دینی چاہیے اور اس کے علاج کے لیے تعاون بھی کرنا چاہیے۔
(فتح الباري: 140/10) (2)
عیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے امر کا صیغہ مروی ہے جو بظاہر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ وجوب عین ہے یا وجوب کفائی، جس سے چند آدمیوں کے بجا لانے سے باقی حضرات کو باز پرس نہیں ہو گی۔
جمہور اہل علم نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5650]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5311 in Urdu