🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
101. بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي جَرِّ الإِزَارِ
باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5328
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنِ الْخُيَلَاءِ خَسَفَ بِهِ , فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص تکبر (گھمنڈ) سے اپنا تہبند لٹکاتا تھا،) تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، چنانچہ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا جا رہا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5328]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ ایک شخص تکبر سے اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتا چلا جا رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5328]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الٔنبیاء 54 (3485)، اللباس 5 (5790)، (تحفة الأشراف: 6998)، مسند احمد (2/66) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اگر کسی مجبوری سے خود سے پاجامہ (تہبند) ٹخنے سے نیچے آ جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ”تکبر سے“ کی قید احتراز نہیں ہے، (کہ اگر تکبر سے تہبند لٹکائے تو حرام ہے، ورنہ نہیں) بلکہ یہ لفظ اس لیے آیا ہے کہ عام طور سے تہبند کا لٹکانا پہلے تکبر اور گھمنڈ ہی سے ہوتا تھا، بہت سی روایات میں لفظ «خیلاء» نہیں ہے، «ازار» میں وہ سارے کپڑے شامل ہیں جو تہبند (لنگی) کی جگہ پہنے جاتے ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر ۵۳۳۱- ۵۳۳۷۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥وهب بن بيان الواسطي، أبو عبد الله
Newوهب بن بيان الواسطي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3485
بينما رجل يجر إزاره من الخيلاء خسف به فهو يتجلجل في الأرض إلى يوم القيامة
سنن النسائى الصغرى
5328
بينا رجل يجر إزاره من الخيلاء خسف به فهو يتجلجل في الأرض إلى يوم القيامة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5328 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5328
اردو حاشہ:
(1) تہ بند، شلوار اور پینٹ وغیرہ زمین پر گھسیٹ کر چلنا کبیرہ گناہ ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے: جوشخص اپنا کپڑا (تہبند، شلوار اور پینٹ) زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے تو اس کی دو ہی وجہیں ہو سکتی ہیں: ایک تو یہ کہ ایسا کرنے والا شخص ازراہِ تکبر ہی اس طرح کرتا ہے۔ یہ شرعا ناجائز ہے اور حرام ہے اور قیامت والے دن ایسے شخص کی طرف اللہ نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، نہ ایسے شخص سے کلام فرمائے گا اور نہ اسے پاک ہی کرے گا بلکہ اس کے لیے درد ناک عذاب ہو گا: (صحیح مسلم، الأیمان، باب بیان غلظ تحریم اسبال الإزار ........حدیث:293، 294) دوسری وجہ غفلت وسستی اور مداہنت ہے۔ احکام شریعت کی بجا آوری میں سستی وغفلت و مداہنت بھی جرم ہے اس لیے ایسے شخص کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے: ”ٹخنوں سے نیچے جہاں تک تہبند ہو گا تو وہ (حصہ جسم) کی آگ میں جلے گا۔“ (صحیح البخاري،اللباس، باب ما أسفل الکعبین فھو فی النار، حدیث 578) یہ بات یاد رہے کہ چار قسم کے لوگ اس وعید سے شدید مستثنی ہیں: ٭عورتیں کہ ان کو حکم ہے کہ وہ اپنا کپڑا اتنا نیچے کریں کہ چلتے وقت پاؤں ننگے نہ ہوں۔ ٭اٹھتے وقت بے خیالی میں کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو جائے۔ ٭کسی کا پیٹ اور توندی بڑی ہو یا کمر پتلی ہو اور کوشش کے باوجود کبھی کبھار کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو جائے۔ ٭پاؤں یا ٹخنوں سے نیچے کوئی زخم ہو تو گردوغبار اورمکھیوں سے حفاظت کے پیش نظر کپڑا نیچے کرنا۔ (مختصر صحیح بخاری (اردو) فوائد حدیث:1984)
(2) ”ایک شخص“ یہ شخص امت مسلمہ سے نہیں بلکہ بنی اسرائیل سے تھا۔ ظاہر تویہی ہے کہ قارون کے علاوہ کوئی اور شخص ہو گا۔ واللہ أعلم.
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5328]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3485
3485. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص اپنی چادر کو تکبر سے لٹکاتا ہوا جارہاتھا تو اسے زمین میں دھنسا دیاگیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔“ عبدالرحمان بن خالد نے زہری سے روایت کرنے میں یونس کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3485]
حدیث حاشیہ:
اس روایت میں قارون مرادہے جس کےدھنسائے جانے کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3485]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3485
3485. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص اپنی چادر کو تکبر سے لٹکاتا ہوا جارہاتھا تو اسے زمین میں دھنسا دیاگیا۔ وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی چلا جائے گا۔“ عبدالرحمان بن خالد نے زہری سے روایت کرنے میں یونس کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3485]
حدیث حاشیہ:
1۔
ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا حرام ہے خواہ تکبر کی بنا پر ہو یا عادت کے طور پر البتہ چار مواقع اس سے مستثنیٰ ہیں۔
عورتیں اس حکم میں شامل نہیں ہیں۔
کوشش کے باوجود بعض اوقات کپڑے نیچے ہو جاتے ہیں۔
جلدی میں اٹھتے وقت کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو جائے۔
بیماری کی وجہ سے ایسا کرنا جائز ہے۔
اس کی تفصیل کتاب اللباس حدیث 5787۔
میں آئے گی۔
صحیح مسلم میں ہے کہ وہ شخص پہلے لوگوں یعنی بنی اسرائیل سے تھا (صحیح مسلم، اللباس والزینة، حدیث: 5469(2088)
2۔
بعض شارحین نے اس سزا کے بارے میں کہا ہے کہ یہ قارون کو ملی تھی۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3485]

Sunan an-Nasa'i Hadith 5328 in Urdu