سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. باب : التغليظ في جر الإزار
باب: ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکانے کی سنگینی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5329
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ. ح وَأَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ , أَوْ قَالَ: إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تکبر (گھمنڈ) سے اپنا کپڑا (ٹخنے سے نیچے) لٹکایا (یا یوں فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا لٹکاتا ہے) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/5 (5791 تعلیقًا)، صحیح مسلم/اللباس9(2062)، (تحفة الأشراف: 8282) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5329 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5329
اردو حاشہ:
”اپنا کپڑا“ گویا ازار کے علاوہ قمیص یا چادر کو بھی زمین پر گھسیٹنا جائز نہیں جب کہ بعض فقہاء نے یہاں کپڑے سے مراد تہبند ہی لیا ہے۔ گویا قمیص لٹکا سکتا ہے مگر یہ اس صریح اور واضح حکم شریعت کے خلاف ہے۔ واللہ أعلم
”اپنا کپڑا“ گویا ازار کے علاوہ قمیص یا چادر کو بھی زمین پر گھسیٹنا جائز نہیں جب کہ بعض فقہاء نے یہاں کپڑے سے مراد تہبند ہی لیا ہے۔ گویا قمیص لٹکا سکتا ہے مگر یہ اس صریح اور واضح حکم شریعت کے خلاف ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5329]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي