سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : ما يستحب من تأخير العشاء
باب: عشاء کو تاخیر سے پڑھنے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّهُ الْوَقْتُ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا (ایک حصہ) گزر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور آواز دی: اللہ کے رسول! صلاۃ! عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے: ”یہی (مناسب اور پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا“ (تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 533]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز مؤخر کی حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا: ”اے اللہ کے رسول! نماز کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو گئے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پانی کے قطرے آپ کے سر سے گر رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: ”یہ ہے عشاء کی نماز کا اصل وقت، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7239
| لولا أن أشق على أمتي أو على الناس |
صحيح مسلم |
1452
| لولا أن يشق على أمتي لأمرتهم أن يصلوها |
سنن النسائى الصغرى |
533
| إنه الوقت لولا أن أشق على أمتي |
سنن النسائى الصغرى |
532
| لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن لا يصلوها إلا هكذا |
Sunan an-Nasa'i Hadith 533 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي