🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب : آخر وقت العشاء
باب: عشاء کے اخیر وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 537
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قالت: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا، اور مسجد کے لوگ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور نماز پڑھائی، اور فرمایا: یہی (اس نماز کا پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا (تو اسے اس کا حکم دیتا)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 537]
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز کو مؤخر فرمایا حتیٰ کہ بہت رات گزر گئی اور مسجد والے (خصوصاً عورتیں اور بچے) سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا: بلاشبہ یہی ہے اس کا (اصل) وقت اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 39 (638)، (تحفة الأشراف: 17984)، حصحیح مسلم/6 (150)، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أم كلثوم بنت أبي بكر الصديق، أم كلثوم
Newأم كلثوم بنت أبي بكر الصديق ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥المغيرة بن حكيم الأبناوي
Newالمغيرة بن حكيم الأبناوي ← أم كلثوم بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← المغيرة بن حكيم الأبناوي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥يوسف بن سعيد المصيصي، أبو يعقوب
Newيوسف بن سعيد المصيصي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة حافظ
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← يوسف بن سعيد المصيصي
ثقة
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد
Newالحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن الحسن المقسمي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن الحسن المقسمي ← الحجاج بن محمد المصيصي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 537 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 537
537 ۔ اردو حاشیہ: بہت رات اس سے مراد اکثر رات نہیں کیونکہ نصف رات کے بعد تو وقت جواز نہیں رہتا۔ صحیحین (بخاری و مسلم) کی احادیث میں صراحت ہے کہ نصف رات ختم نہ ہوئی تھی۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 600، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 640]
لہٰذا اس سے مراد رات کا کافی حصہ ہے۔ اصل وقت سے مراد یہ ہے کہ اگر نیند کا لحاظ نہ رکھا جائے تو نماز آدھی رات کو ہونی چاہیے تھی، جس طرح ظہر کی نماز دوپہر کو ہوتی ہے، مگر نیند کا لحاظ رکھتے ہوئے اب اس کا افضل وقت تہائی رات تک ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 537]

Sunan an-Nasa'i Hadith 537 in Urdu