🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : الألد الخصم
باب: لڑاکے اور جھگڑالو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5425
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ بغض و نفرت لڑاکے اور جھگڑالو شخص سے ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5425]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 15 (2457)، تفسیر البقرة 37 (4523)، الَٔحکام 34 (7188)، صحیح مسلم/العلم 2 (2668)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (2976)، (تحفة الأشراف: 16248)، مسند احمد (6/55، 63، 205) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مراد: باطل کے لیے جھگڑا کرنے والا اور چرب زبانی کرنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن منصور الخزاعي، أبو عبد الله
Newمحمد بن منصور الخزاعي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن منصور الخزاعي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ إمام
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ إمام
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
7188
أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
صحيح البخاري
2457
أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
صحيح مسلم
6780
أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
جامع الترمذي
2976
أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
سنن النسائى الصغرى
5425
أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5425 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5425
اردو حاشہ:
اس سے وہ شخص مراد ہے جو ہر وقت جھگڑتا رہتا ہے‘ باطل اور جھوٹ پر ہونے کے باوجود ضد اور جھگڑا نہیں چھوڑتا‘ نیز مخالفت حق میں ہر شخص اور ہر بات پر جھگڑتا ہے۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5425]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2976
سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2976]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ اشارہ ہے ارشاد باری:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ﴾ (البقرۃ: 204) کی طرف۔
یعنی لوگوں میں سے بعض آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ دنیاوی زندگی میں ان کی بات آپ کو اچھی لگے گی جب کہ اللہ تعالیٰ کو وہ جو اُس کے دل میں ہے گواہ بنا رہا ہوتا ہے،
حقیقت میں وہ سخت جھگڑالو ہوتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2976]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6780
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کے نزدیک سب مردوں سے برا اور مبغوض وہ شخص ہے، جو انتہائی سخت جھگڑا لوہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6780]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ألد:
بہت جھگڑالو،
کیونکہ لدد جھگڑے کو کہتے ہیں اور خصم،
بھی سخت اور جھگڑے کی مہارت کو کہتے ہیں،
مقصد یہ ہے،
اس کا کام محض جھگڑنا اور بحث کرنا ہے،
جائز یا ناجائز اور حق و باطل سے غرض نہیں ہے،
حق کے ابطال اور باطل کے اثبات کے لیے جھگڑنا بھی اس میں داخل ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6780]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2457
2457. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو شخص جھگڑالو ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2457]
حدیث حاشیہ:
بعض بدبختوں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ ذرا ذرا سی باتوں میں آپس میں جھگڑا فساد کرتے رہتے ہیں۔
ایسے لوگ عنداللہ بہت ہی برے ہیں۔
پوری آیت کا ترجمہ یوں ہے، لوگوں میں کوئی ایسا ہے جس کی بات دنیا کی زندگی میں تجھ کو بھلی لگتی ہے اور اپنے دل کی حالت پر اللہ کو گواہ کرتاہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے۔
کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے حق میں اتری۔
وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام کا دعوی کرکے میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا۔
جب کہ دل میں نفاق رکھتا تھا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2457]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2457
2457. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسند وہ شخص ہے جو شخص جھگڑالو ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2457]
حدیث حاشیہ:
(1)
ألدالخصم سے مراد وہ شخص ہے جو ذرا ذرا سی بات پر لوگوں سے جھگڑتا ہو یا باطل کا دفاع کرنے میں بڑی مہارت رکھتا ہو۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں بھی ذکر کیا ہے، تاہم اس مقام پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عام طور پر مظالم اور تنازعات میں جھگڑوں اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی ہے، لہذا حتی الامکان جھگڑوں اور جنگ و قتال سے بچنا چاہیے۔
(2)
واضح رہے کہ آیت کریمہ میں (أَلَدُّ الْخِصَامِ)
سے مراد اخنس بن شریق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک منافق انسان تھا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2457]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:7188
7188. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:7188]
حدیث حاشیہ:

لڑنا،جھگڑنا، بات بات پر پھڈا ڈالنا اور سینگ پھنسانا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔
حکومتی معاملات کے لیے ایسا رویہ انتہائی مہلک اور نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے لڑائی جھگڑے کو ترک کر دینے کی بہت فضیلت بیان کی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں ایسے شخص کے لیے جنت میں بہترین مکان کا ضامن ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے لڑائی جھگڑا چھوڑ دیتا ہے۔
(سنن أبي داؤد، الأدب، حدیث: 4800)

بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ انسان انتہائی ناپسندیدہ ہے جو ہمیشہ جھگڑتا رہے اوربغض وعناد رکھتے ہوئے حق کوقبول نہ کرے۔
یہ معنی کافر اور مسلمان دونوں کو شامل ہیں۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7188]