سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ : مَاجَائَ فِي الْمُعَوِسذَتَيْنِ
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5439
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ , إِذْ قَالَ:" أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ؟" , فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبْ مَرْكَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ؟" , فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً، فَنَزَلَ وَرَكِبْتُ هُنَيْهَةً , وَنَزَلْتُ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ"، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي، فَقَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری (اونٹنی) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا تم سوار نہیں ہو گے؟“ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر ہو جاؤں، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ؟“ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہو جائے، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوا پھر میں اتر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا: ”لوگ جو سورتیں پڑھتے ہیں، ان میں سے میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں؟“ چنانچہ آپ نے مجھے پڑھ کر سنائی «قل أعوذ برب الفلق» اور « قل أعوذ برب الناس»، پھر نماز قائم کی گئی، تو آپ آگے بڑھے اور ان دونوں سورتوں کو پڑھا، پھر آپ میرے پاس سے گزرے، اور فرمایا: ”عقبہ! یہ کیسی لگیں؟ جب جب سوؤ اور جب جب جاگو انہیں پڑھا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر ان گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ! تو (میرے ساتھ سوار ہو جا)؟“ میں نے اس بات کو بہت بڑا محسوس کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر سوار ہو جاؤں۔ کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عقبہ! تو سوار کیوں نہیں ہو جاتا؟“ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے تو میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہو گیا۔ پھر میں اتر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو لوگوں نے پڑھی ہیں؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھائیں۔ پھر جماعت کے لیے اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور یہی دو سورتیں پڑھیں۔ پھر (نماز سے فراغت کے بعد) میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”عقبہ بن عامر! تیری کیا رائے ہے؟ ان سورتوں کو پڑھا کر جب بھی تو سوئے یا جاگے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5438 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
955
| آيات أنزلت علي الليلة لم ير مثلهن قط قل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس |
صحيح مسلم |
1891
| ألم تر آيات أنزلت الليلة لم ير مثلهن قط قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس |
سنن أبي داود |
1462
| ألا أعلمك خير سورتين قرئتا فعلمني قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس قال فلم يرني سررت بهما جدا فلما نزل لصلاة الصبح صلى بهما صلاة الصبح للناس فلما فرغ رسول الله من الصلاة التفت إلي فقال يا عقبة كيف رأيت |
سنن النسائى الصغرى |
5438
| قرأ بهما في صلاة الصبح |
سنن النسائى الصغرى |
5439
| ألا أعلمك خير سورتين قرئتا فعلمني قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس فلم يرني سررت بهما جدا فلما نزل لصلاة الصبح صلى بهما صلاة الصبح للناس فلما فرغ رسول الله من الصلاة التفت إلي فقال يا عقبة كيف رأيت |
سنن النسائى الصغرى |
5439
| ألا أعلمك سورتين من خير سورتين قرأ بهما الناس فأقرأني قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس فأقيمت الصلاة فتقدم فقرأ بهما ثم مر بي فقال كيف رأيت يا عقبة بن عامر اقرأ بهما كلما نمت وقمت |
مسندالحميدي |
874
| قل يا عقبة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
955
| آيات أنزلت علي الليلة لم ير مثلهن قط قل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس |
صحيح مسلم |
1891
| ألم تر آيات أنزلت الليلة لم ير مثلهن قط قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس |
سنن أبي داود |
1462
| ألا أعلمك خير سورتين قرئتا فعلمني قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس قال فلم يرني سررت بهما جدا فلما نزل لصلاة الصبح صلى بهما صلاة الصبح للناس فلما فرغ رسول الله من الصلاة التفت إلي فقال يا عقبة كيف رأيت |
سنن النسائى الصغرى |
5438
| قرأ بهما في صلاة الصبح |
سنن النسائى الصغرى |
5439
| ألا أعلمك خير سورتين قرئتا فعلمني قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس فلم يرني سررت بهما جدا فلما نزل لصلاة الصبح صلى بهما صلاة الصبح للناس فلما فرغ رسول الله من الصلاة التفت إلي فقال يا عقبة كيف رأيت |
سنن النسائى الصغرى |
5439
| ألا أعلمك سورتين من خير سورتين قرأ بهما الناس فأقرأني قل أعوذ برب الفلق و قل أعوذ برب الناس فأقيمت الصلاة فتقدم فقرأ بهما ثم مر بي فقال كيف رأيت يا عقبة بن عامر اقرأ بهما كلما نمت وقمت |
مسندالحميدي |
874
| قل يا عقبة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5439 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5439
اردو حاشہ:
”تیری کیا رائے ہے؟“ یعنی ان دو سورتوں کی شان وعظمت کے بارے میں کہ ان کو صبح کی نماز میں پڑھا گیا۔
”تیری کیا رائے ہے؟“ یعنی ان دو سورتوں کی شان وعظمت کے بارے میں کہ ان کو صبح کی نماز میں پڑھا گیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5439]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1462
سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی فضیلت کا بیان۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1462]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1462]
1462. اردو حاشیہ:
➊ حضرت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شاید یہ سمجھے کہ کوئی خاص لمبی سورتیں پڑھائی جایئں گی۔ مگر یہ مختصر تھیں اس لئے ابتداءً کوئی زیادہ خوش نہیں ہوئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں ان کی قراءت کرکے ان کی فضیلت واہمیت واضح فرما دی۔ نیز ثابت ہے کہ یہ سورتیں دافع سحر۔ حفظ وامان اور جامع تعوذات ہیں۔
➋ اور بعض لوگ اب بھی ایسے ہیں۔ کہ وہ لمبے لمبے پر مشقت وظیفوں کے شائق رہتے ہیں۔ حالانکہ چاہیے کہ سنت صحیحہ سے ثابت شدہ سہل اور خفیف اذکار کو اپنا معمول بنایاجائے۔اس میں محنت کم اور اجر وفضیلت زیاد ہ ہے۔
➊ حضرت عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ شاید یہ سمجھے کہ کوئی خاص لمبی سورتیں پڑھائی جایئں گی۔ مگر یہ مختصر تھیں اس لئے ابتداءً کوئی زیادہ خوش نہیں ہوئے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں ان کی قراءت کرکے ان کی فضیلت واہمیت واضح فرما دی۔ نیز ثابت ہے کہ یہ سورتیں دافع سحر۔ حفظ وامان اور جامع تعوذات ہیں۔
➋ اور بعض لوگ اب بھی ایسے ہیں۔ کہ وہ لمبے لمبے پر مشقت وظیفوں کے شائق رہتے ہیں۔ حالانکہ چاہیے کہ سنت صحیحہ سے ثابت شدہ سہل اور خفیف اذکار کو اپنا معمول بنایاجائے۔اس میں محنت کم اور اجر وفضیلت زیاد ہ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1462]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5438
معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟“ پھر آپ نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟“ پھر آپ نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
اردو حاشہ:
”کیا خیال ہے؟“ یعنی اب تجھے ان سورتوں کی اہمیت محسوس ہوئی؟
”کیا خیال ہے؟“ یعنی اب تجھے ان سورتوں کی اہمیت محسوس ہوئی؟
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5438]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1891
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمھیں معلوم ہے کہ آج رات جو آیات مجھ پر اتاری گئی ہیں، ان کے مثل کبھی نہیں دیکھی گئیں؟ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ “ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1891]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ دونوں سورتیں اس لحاظ سے بے مثال ہیں کہ ان میں ابتدا سے انتہا تک یعنی اول سے آخر تک تعوذ ہے اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کے شرور چاہے ان کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے،
پناہ طلب کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان سورتوں میں شرور سے حفاظت کی بے پناہ تاثیر رکھی ہے،
اس طرح یہ ہر قسم کے شرور سے محفوظ رہنے کے لیے ہیں حصن حصین (مضبوط قلعہ)
ہیں اور دونوں اختصار کے باوجود اپنے مضمون میں انتہائی جامع اور کافی و شافی ہیں۔
فوائد ومسائل:
یہ دونوں سورتیں اس لحاظ سے بے مثال ہیں کہ ان میں ابتدا سے انتہا تک یعنی اول سے آخر تک تعوذ ہے اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کے شرور چاہے ان کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے،
پناہ طلب کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان سورتوں میں شرور سے حفاظت کی بے پناہ تاثیر رکھی ہے،
اس طرح یہ ہر قسم کے شرور سے محفوظ رہنے کے لیے ہیں حصن حصین (مضبوط قلعہ)
ہیں اور دونوں اختصار کے باوجود اپنے مضمون میں انتہائی جامع اور کافی و شافی ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1891]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:874
874- سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے نیچے اتر رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عقبہ! تم یہ پڑھو۔“ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیا پڑھوں۔ پھر ہم الگ ہوگئے: میں نے دعا کی: اے اللہ! تو اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وہ چیز مجھے لوٹا دے۔ پھر ہماری ملاقات ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عقبہ! تم پڑھو“ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیا پڑھوں؟ پھر ہم جدا ہوگئے میں نے عرض کی: اے اللہ! تو اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریع۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:874]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ معوذتین کی بہت فضیلت ہے۔ ان کی قرأت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ گیا اسے اور کیا چاہیے۔
سیدنا عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کیا تم کو وہ آیتیں معلوم نہیں جو آج کی رات نازل ہوئیں اور جن کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ وہ آیتیں یہ ہیں:
﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ “ [صحيح مسلم 814/ 264] معوذتین کی فضیلت میں کئی ایک احادیث مروی ہیں جو الجامح الکامل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا یونس نے بروایت زہری سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے حدیث کا آخری حصہ اس طرح نقل کیا ہے لیکن امام مالک رحمہ اللہ نے بروایت زہری اس طرح نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے تب بھی معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ سورتیں پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر پھونک کر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیر دیا کرتی تھی جس سے میرا مقصد حصول برکت تھا۔ [تفسير المعوذتين]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ معوذتین کی بہت فضیلت ہے۔ ان کی قرأت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آ گیا اسے اور کیا چاہیے۔
سیدنا عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”کیا تم کو وہ آیتیں معلوم نہیں جو آج کی رات نازل ہوئیں اور جن کی مثال اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ وہ آیتیں یہ ہیں:
﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ “ [صحيح مسلم 814/ 264] معوذتین کی فضیلت میں کئی ایک احادیث مروی ہیں جو الجامح الکامل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا یونس نے بروایت زہری سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا سے حدیث کا آخری حصہ اس طرح نقل کیا ہے لیکن امام مالک رحمہ اللہ نے بروایت زہری اس طرح نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تھے تب بھی معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ سورتیں پڑھ کر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر پھونک کر اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیر دیا کرتی تھی جس سے میرا مقصد حصول برکت تھا۔ [تفسير المعوذتين]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 873]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5439 in Urdu
القاسم بن عبد الرحمن الشامي ← عقبة بن عامر الجهني