پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : ماجائ في المعوسذتين
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5440
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، فَقُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا , وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «قل أعوذ برب الفلق» “، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ! پڑھ۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: ”اے عقبہ! کہہ۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے (دل میں) کہا: یا اللہ! آپ کو میری طرف متوجہ فرما۔ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ! پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] “ میں نے سورت پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ مکمل کر دی۔ پھر آپ نے فرمایا: ”پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ۔“ اس وقت میں نے آخر تک پوری پڑھ دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سوال کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ سوال نہیں کیا اور نہ کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ طلب کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9927)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
954
| لن تقرأ شيئا أبلغ عند الله من قل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس |
سنن أبي داود |
1463
| يتعوذ ب أعوذ برب الفلق و أعوذ برب الناس ويقول يا عقبة تعوذ بهما فما تعوذ متعوذ بمثلهما |
سنن النسائى الصغرى |
5433
| لم يتعوذ الناس بمثلهن أو لا يتعوذ الناس بمثلهن |
سنن النسائى الصغرى |
5440
| ما سأل سائل بمثلهما ولا استعاذ مستعيذ بمثلهما |
سنن النسائى الصغرى |
5441
| لن تقرأ شيئا أبلغ عند الله من قل أعوذ برب الفلق |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5440 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5440
اردو حاشہ:
”خاموش ہو گئے“ آپ کا ایک ہی بات فرمانا اور پھر خاموش ہو جانا مخاطب کے دل میں شوق او ر توجہ پیدا کرنے کے لیے تھا تا کہ اس کے نزدیک آئندہ بات کی اہمیت واضح ہو جائے۔
”خاموش ہو گئے“ آپ کا ایک ہی بات فرمانا اور پھر خاموش ہو جانا مخاطب کے دل میں شوق او ر توجہ پیدا کرنے کے لیے تھا تا کہ اس کے نزدیک آئندہ بات کی اہمیت واضح ہو جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5440]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 954
معوذتین پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 954]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 954]
954 ۔ اردو حاشیہ: مبتدی طالب علم کو چھوٹی سورتوں سے ابتدا کرنی چاہیے، نہ کہ بڑی سورتوں سے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے ابتداء ہی دو لمبی سورتیں، یعنی سورۂ ہود اور سورۂ یوسف سکھانے کا مطلبہ کیا تو آپ نے رہنمائی فرمائی کہ چھوٹی سورتوں سے ابتدا کریں۔ چھوٹی سورتوں کی اپنی فضیلت ہے۔ یا ممکن ہے استعاذہ کا موقع ہو۔ ظاہر ہے معوذتین کو اس مقصد سے جو مناسبت ہے، وہ کسی اور سورت کو نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 954]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5441
معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
اردو حاشہ:
”زیادہ عظمت والی ہو“ یعنی پناہ طلب کرنے کے بارے میں ورنہ کسی اور لحاظ سے کوئی اور سورت افضل ہو سکتی ہے۔
”زیادہ عظمت والی ہو“ یعنی پناہ طلب کرنے کے بارے میں ورنہ کسی اور لحاظ سے کوئی اور سورت افضل ہو سکتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5441]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5440 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← عقبة بن عامر الجهني