سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : الاستعاذة من الجنون
باب: جنون اور پاگل پن سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5495
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، وَسَيِّئِ الْأَسْقَامِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الجنون والجذام والبرص وسييء الأسقام» ”اے اللہ! جنون (پاگل پن)، جذام، برص اور برے امراض سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد النسائي (تحفة الٔاشراف: 1424) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1554) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر همام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة | |
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود أبو داود الطيالسي ← همام بن يحيى العوذي | ثقة حافظ غلط في أحاديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← أبو داود الطيالسي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1554
| اللهم إني أعوذ بك من البرص والجنون والجذام ومن سيئ الأسقام |
سنن النسائى الصغرى |
5495
| اللهم إني أعوذ بك من الجنون والجذام والبرص وسيئ الأسقام |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5495 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5495
اردو حاشہ:
(1) بعض بیماریاں دیرپا ہوتی ہیں اور ان کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ موت تک کے لیے لازمہ بن جاتی ہیں۔ لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جسم عیب دار بن جاتا ہے یا وہ انسانی عقل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں کہ انسان جانورں جیسے کام کرنے لگ جاتا ہے۔ ایسی بیماریوں کو بری بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حدیث میں مذکورہ بیماریوں کے علاوہ دور حاضر کی بیماریاں فالج‘ کینسر‘ ایڈز‘ پولیو وغیرہ ایسی ہی بیماریاں ہیں۔ أعاذنا اللہ منھا۔ جبکہ بعض بیماریاں عارضی ہوتی ہیں‘ برے اثرات نہیں چھوڑتیں بلکہ بسا اوقات جسم کی اصلاح کرتی ہیں‘ مثلاً: معمولی بخار‘ زکام اور سر درد وغیرہ۔ ایسی بیماریاں انسان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں اور بڑی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔
(2) یہ روایت دیگر محققین کے نزدیک صحیح ہے اور انھی کی بات راجح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة‘مسند الإمام أحمد:309/20)
(1) بعض بیماریاں دیرپا ہوتی ہیں اور ان کے اثرات ختم نہیں ہوتے۔ موت تک کے لیے لازمہ بن جاتی ہیں۔ لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ جسم عیب دار بن جاتا ہے یا وہ انسانی عقل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں کہ انسان جانورں جیسے کام کرنے لگ جاتا ہے۔ ایسی بیماریوں کو بری بیماریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حدیث میں مذکورہ بیماریوں کے علاوہ دور حاضر کی بیماریاں فالج‘ کینسر‘ ایڈز‘ پولیو وغیرہ ایسی ہی بیماریاں ہیں۔ أعاذنا اللہ منھا۔ جبکہ بعض بیماریاں عارضی ہوتی ہیں‘ برے اثرات نہیں چھوڑتیں بلکہ بسا اوقات جسم کی اصلاح کرتی ہیں‘ مثلاً: معمولی بخار‘ زکام اور سر درد وغیرہ۔ ایسی بیماریاں انسان کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں اور بڑی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں۔
(2) یہ روایت دیگر محققین کے نزدیک صحیح ہے اور انھی کی بات راجح ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة‘مسند الإمام أحمد:309/20)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5495]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1554
(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1554]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1554]
1554. اردو حاشیہ: اس قسم کی بیماریوں میں بعض اوقات انسان اپنے آپ سے بھی بیزار ہو جاتا ہے اور تیمار داروں کو بھی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ [عافانا الله منها]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1554]
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري