🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : الإسفار
باب: نماز فجر اسفار میں پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 550
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قال: أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ، قال: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا أَسْفَرْتُمْ بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ بِالْأَجْرِ".
محمود بن لبید اپنی قوم کے کچھ انصاری لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنا تم فجر اجالے میں پڑھو گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 15670) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: علماء نے اسفار کی تاویل یہ کی ہے کہ فجر واضح ہو جائے، اس کے طلوع میں کوئی شک نہ ہو، اور ایک تاویل یہ بھی ہے کہ اس حدیث میں صلاۃ سے نکلنے کے وقت کا بیان ہے نہ کہ صلاۃ میں داخل ہونے کا اس تاویل کی رو سے فجر غلس میں شروع کرنا، اور اسفار میں ختم کرنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمود بن لبيد الأشهلي، أبو نعيمله رؤية
👤←👥عاصم بن عمر الأنصاري، أبو محمد، أبو عمرو، أبو عمر
Newعاصم بن عمر الأنصاري ← محمود بن لبيد الأشهلي
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عاصم بن عمر الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن مطرف الليثي، أبو غسان
Newمحمد بن مطرف الليثي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← محمد بن مطرف الليثي
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن يعقوب السعدي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن يعقوب السعدي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 550 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 550
550 ۔ اردو حاشیہ:
روشن کرو کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دیر کر کے پڑھو۔ یہ اگرچہ جائز ہے مگر افضل نہیں کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اندھیرے میں نماز پڑھنے کا تھا جیسے کہ اوپر بیان ہوا، اس لیے اس روایت کے کچھ اور مفہوم بھی بیان کیے گئے ہیں، مثلاً: نماز اندھیرے میں شروع کر کے لمبی قرأت کی جائے حتیٰ کہ روشنی ہو جائے۔ دوسری روایت کے ترجمے میں یہی مفہوم اختیار کیا گیا ہے اور یہ آپ کے عمل کے مطابق بھی ہے۔ یا روشنی سے مراد افق (آسمان کے کنارے) پر روشنی ہے نہ کہ زمین پر، یعنی نماز اس وقت پڑھی جائے جب مشرقی افق روشن ہو جائے، البتہ زمین پر اندھیرا ہی ہو گا۔ یہ مفہوم بھی آپ کے طرزعمل سے مطابقت رکھتا ہے۔ یا یہ حکم ان مساجد کے لیے ہے جن میں بڑا مجمع ہوتا ہے، ہر قسم کے نمازی ہوتے ہیں اور وہ جلدی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ یا تاکہ لوگ آسانی سے جماعت کے ساتھ مل جائیں، جتنے مقتدی زیادہ ہوں گے، اتنا ہی ثواب زیادہ ہو گا۔ واللہ اعلم۔
➋دوسری روایت کا مطلب یہ ہے کہ نماز اندھیرے میں شروع ہو جائے، پھر پڑھتے پڑھتے روشنی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں بلکہ یہ تو زیادہ ثواب والی بات ہے، مگر بعد میں کم از کم اتنا وقت سورج طلوع ہونے تک ضرور ہونا چاہیے کہ اگر ضرورت پڑے تو نیاوضو کر کے مسنون طریقے سے دوبار ہ نماز باجماعت دہرائی جا سکے۔ مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائی ملاحظہ فرمائیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 550]