🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب : الاستعاذة من شر ما عمل وذكر الاختلاف على هلال
باب: اعمال کی برائی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان اور ہلال کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5525
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، 27 عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، أَنَّ ابْنَ يَسَافٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا كَانَ أَكْثَرُ مَا يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ؟ قَالَتْ: كَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْعُو بِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی موت سے پہلے کون سی دعا مانگا کرتے تھے؟ وہ بولیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگتے تھے «اللہم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں اپنے کیے ہوئے کاموں کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور جو کام نہیں کیے ہیں (اور آیندہ کروں گا) ان کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17679) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: چنانچہ عبدہ کی روایت میں «عن ہلال عن عائشہ» ہے جب کہ منصور اور حصین کی روایت میں «عن ہلال عن فروہ عن عائشہ» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥هلال بن يساف الأشجعي، أبو الحسن
Newهلال بن يساف الأشجعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عبدة بن أبي لبابة الأسدي، أبو القاسم
Newعبدة بن أبي لبابة الأسدي ← هلال بن يساف الأشجعي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← عبدة بن أبي لبابة الأسدي
ثقة مأمون
👤←👥موسى بن شيبة الحضرمي
Newموسى بن شيبة الحضرمي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← موسى بن شيبة الحضرمي
ثقة حافظ
👤←👥يونس بن عبد الأعلي الصدفي، أبو موسى
Newيونس بن عبد الأعلي الصدفي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5525 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5525
اردو حاشہ:
(1) اس قسم کی دعائیں امت کی تعلیم کے لیے ہیں یا اپنی عبودیت کے اظہارکے لیے ورنہ آپ سے گناہوں کا صدورممکن نہیں تھا۔ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی انھیں گناہ سے بچا کر رکھتا ہے۔
(2) گناہوں کے شرسے مراد وہ سزا ہے جوگناہوں کے لیے مقرر کی گئی ہے یعنی میرے گناہ معاف فرما۔ آئندہ گناہوں کے شر سے مراد ان کا صدور بھی ہو سکتا ہے کہ مجھ سے وہ گناہ ہی صادر نہ ہوں کیونکہ تقدیر سے توکوئی واقف نہیں۔ واللہ أعلم۔
(3) گناہ خواہ وہ فعل ہو یا ترک۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5525]