سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب : الرخصة في انتباذ البسر وحده
باب: صرف ادھ کچی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5574
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى يَعْنِي ابْنَ عِمْرَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ، وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ، وَقَالَ:" انْتَبِذُوا الزَّبِيبَ فَرْدًا، وَالتَّمْرَ فَرْدًا، وَالْبُسْرَ فَرْدًا"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو كَثِيرٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوکھی کھجور اور کشمش (سوکھے انگور) ملا کر اور سوکھی کھجور اور ادھ کچی کھجور ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”کشمش کی الگ، سوکھی کھجور کی الگ اور ادھ کچی کھجور کی الگ نبیذ بناؤ“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوکثیر کا نام یزید بن عبدالرحمٰن ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5574]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کھجوروں اور منقیٰ کو ملا کر یا کھجوروں اور گدر کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنائی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منقیٰ کی الگ نبیذ بناؤ، کھجور کی الگ اور گدر کھجور کی الگ۔“ ابو عبد الرحمان (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ (راوئ حدیث) ابو کثیر کا نام یزید بن عبد الرحمان ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5571 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5574 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5574
اردو حاشہ:
امام نسائی ؒ جس ابو کثیر کے نام کی وضاحت فرما رہے ہیں وہ حدیث سابق: 5573 کا راوی ہے، اس لیے اس وضاحت اور تصریح کا اصل مقام سابقہ حدیث کے تحت ہی تھا۔ بہتر یہی تھا کہ یہ وضاحت اس حدیث سے اوپر والی حدیث کے تحت کی جاتی۔ شاید یہ کاتب وغیرہ کا سہو ہو۔ واللہ آعلم۔
امام نسائی ؒ جس ابو کثیر کے نام کی وضاحت فرما رہے ہیں وہ حدیث سابق: 5573 کا راوی ہے، اس لیے اس وضاحت اور تصریح کا اصل مقام سابقہ حدیث کے تحت ہی تھا۔ بہتر یہی تھا کہ یہ وضاحت اس حدیث سے اوپر والی حدیث کے تحت کی جاتی۔ شاید یہ کاتب وغیرہ کا سہو ہو۔ واللہ آعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5574]
Sunan an-Nasa'i Hadith 5574 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري