Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب : الإذن في شىء منها
باب: ہر برتن کے استعمال کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ مَرْوَزِيٌّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ خُرَاسَانِيٌّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَسِيرُ إِذْ حَلَّ بِقَوْمٍ , فَسَمِعَ لَهُمْ لَغَطًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا الصَّوْتُ؟" , قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , لَهُمْ شَرَابٌ يَشْرَبُونَهُ، فَبَعَثَ إِلَى الْقَوْمِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ:" فِي أَيِّ شَيْءٍ تَنْتَبِذُونَ؟" , قَالُوا: نَنْتَبِذُ فِي النَّقِيرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَلَيْسَ لَنَا ظُرُوفٌ، فَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَوْكَيْتُمْ عَلَيْهِ"، قَالَ: فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ عَلَيْهِمْ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَصَابَهُمْ وَبَاءٌ وَاصْفَرُّوا، قَالَ:" مَا لِي أَرَاكُمْ قَدْ هَلَكْتُمْ؟" , قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرْضُنَا وَبِيئَةٌ، وَحَرَّمْتَ عَلَيْنَا، إِلَّا مَا أَوْكَيْنَا عَلَيْهِ، قَالَ:" اشْرَبُوا وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں جا رہے تھے، اسی دوران اچانک کچھ لوگوں کے پاس ٹھہرے، تو ان میں کچھ گڑبڑ آواز سنی، فرمایا: یہ کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! ان کا ایک قسم کا مشروب ہے جسے وہ پی رہے ہیں، آپ نے لوگوں کو بلا بھیجا اور فرمایا: تم لوگ کس چیز میں نبیذ تیار کرتے ہو؟ وہ بولے: ہم لوگ لکڑی کے برتن اور کدو کی تونبی میں تیار کرتے ہیں۔ ہمارے پاس (ان کے علاوہ) دوسرے برتن نہیں ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صرف ڈاٹ لگے ہوئے برتنوں میں پیو، پھر آپ وہاں کچھ دنوں تک ٹھہرے رہے جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر جب ان کے پاس لوٹ کر گئے تو دیکھا کہ وہ استسقاء کے مرض میں مبتلا ہو کر پیلے پڑ گئے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں تباہ و برباد دیکھ رہا ہوں، وہ بولے: اللہ کے نبی! ہمارا علاقہ وبائی ہے آپ نے ہم پر (تمام برتن) حرام کر دیے سوائے ان برتنوں کے جن پر ہم نے ڈاٹ لگائی ہو، آپ نے فرمایا: پیو (جیسے چاہو) البتہ ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1991) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥عيسى بن عبيد الكندي، أبو المنيب
Newعيسى بن عبيد الكندي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الله بن عثمان العتكي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عثمان العتكي ← عيسى بن عبيد الكندي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى اليشكري، أبو علي
Newمحمد بن يحيى اليشكري ← عبد الله بن عثمان العتكي
ثقة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 5658 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5658
اردو حاشہ:
(1) اس حدیث میں سابقہ نہی وممانعت کے نسخ کا بیان ہے۔ پہلے آپ نے انھیں یہ حکم ارشاد فرمایا تھا کہ ایسے برتنوں میں نبیذ بنایا کرو جن کےمنہ تسمے یا دھاگے وغیرہ سے بند کر کے باندھے جا سکتے ہوں۔ پھر بعد ازاں آپ نے یہ پابندی نرم کردی اورصرف یہ پابندی برقرار رکھی کہ ہرنشہ آور مشروب حرام ہے۔
(2) شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کےنقضانات میں سے چند یہ ہیں: غل غپاڑہ مچانا، ہذیان بکنا، اونچی اونچی بولنا، حرمتوں کو پامال کرنا، بے ہودگی اور آوارگی کا مظاہرہ کرنا، دیوانگی اور عشق وفریفتگی کا مظہر بن جانا، خواہشات کی پیروی کرنا او ربے حیا بن جانا۔
(3) نشہ آور مشروبات ومطعومات اس لیے بھی ناجائز ہیں کہ ان کے استعمال سے انسانی عقل وشعور ماؤف ہو جاتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو صاحب شعور بنایا ہے۔ انسانی شرف وکمال میں عقل وخرد کا بہت زیادہ عمل وخلل ہے بلکہ دیگر جانداروں سے، اسے امتیاز عقل وشعور ہی کی وجہ سے ہے۔ اور نشہ عقل کا دشمن ہے، لہٰذا یہ حرام ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5658]