🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب : ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5689
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ , عَنْ أَبِي عَوْنٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ:" حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَلِيلُهَا وَكَثِيرُهَا وَمَا أَسْكَرَ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ شُبْرُمَةَ , وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ كَانَ يُدَلِّسُ , وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ , ذِكْرُ السَّمَاعِ مِنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , وَرِوَايَةُ أَبِي عَوْنٍ أَشْبَهُ بِمَا رَوَاهُ الثِّقَاتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ شراب کم ہو یا زیادہ حرام ہے اور ہر وہ مشروب جو نشہ لائے (کم ہو یا زیادہ) حرام ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابن شبرمہ کی حدیث کے مقابلے میں یہ زیادہ قرین صواب ہے ۱؎، ہشیم بن بشیر تدلیس کرتے تھے، ان کی حدیث میں ابن شبرمہ سے سماع ہونے کا ذکر نہیں ہے اور ابو عون کی روایت ان ثقات کی روایت سے بہت زیادہ مشابہ ہے جنہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5689]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شراب قلیل ہو یا کثیر حرام ہے، اسی طرح ہر نشہ آور مشروب بھی۔ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ روایت ابن شبرمہ کی (بیان کردہ) روایت سے زیادہ درست ہے۔ ہشیم بن بشیر تدلیس کرتا تھا اور اس کی حدیث میں اس (ہشیم) کے ابن شبرمہ سے سننے کا ذکر بھی نہیں۔ اور ابو عون کی روایت ثقات کی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کردہ روایت کے بہت مشابہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5686 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: اس حدیث کا بلفظ «المسکر» ہونا بمقابلہ «السکر» ہونے کا زیادہ صحیح ہے، (ابن شبرمہ کی روایت میں «السکر» ہے جب کہ ابو عون کی روایت میں «المسکر» ہے) امام نسائی کی طرح امام احمد وغیرہ نے بھی لفظ «المسکر» ہی کو ترجیح دیا ہے (دیکھئیے فتح الباری ج۱۰/ص۴۳)۔ ۲؎: مؤلف کا مقصد یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن شبرمہ کی روایت کے مقابلہ میں ابو عون کی روایت سنداً زیادہ قرین صواب اس لیے بھی ہے کہ ابو عون کی روایت ابن عباس سے روایت کرنے والے دیگر ثقہ رواۃ کی روایتوں کے مطابق ہے کہ ابن عباس نشہ لانے والے مشروب کی ہر مقدار کی حرمت کے قائل تھے خواہ اس کی کم مقدار نشہ نہ لائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عبد الله بن شداد الليثي، أبو الوليد
Newعبد الله بن شداد الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عبيد الله الثقفي، أبو عون
Newمحمد بن عبيد الله الثقفي ← عبد الله بن شداد الليثي
ثقة
👤←👥العباس بن ذريح الكلبي
Newالعباس بن ذريح الكلبي ← محمد بن عبيد الله الثقفي
ثقة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← العباس بن ذريح الكلبي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥إبراهيم بن العباس السامري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن العباس السامري ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← إبراهيم بن العباس السامري
ثقة حافظ فقيه حجة
👤←👥الحسين بن منصور السلمي، أبو علي
Newالحسين بن منصور السلمي ← أحمد بن حنبل الشيباني
ثقة مأمون
Sunan an-Nasa'i Hadith 5689 in Urdu