پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : أذان الراعي
باب: چرواہے کی اذان کا بیان۔
حدیث نمبر: 666
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ".
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے“، لوگوں نے دیکھا تو وہ (واقعی) بکریوں کا چرواہا نکلا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 666]
حضرت عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ نے ایک آدمی کی آواز سنی جو اذان کہہ رہا تھا۔ آپ اس کی اذان کا جواب دینے لگے۔ جب وہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» تک پہنچا تو آپ نے فرمایا: ”تحقیق یہ شخص بکریوں کا چرواہا ہے یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے۔“ پھر آپ اس وادی میں اترے تو پتہ چلا کہ وہ بکریوں کا چرواہا ہے۔ آپ ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں یقین ہے کہ یہ بکری اپنے گھر والوں کے نزدیک بے قدر ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس (بکری) سے بھی بڑھ کر ذلیل ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5251)، مسند احمد 4/336، وفي الیوم واللیلة 18 (38) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
سنن نسائی کی حدیث نمبر 666 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 666
666 ۔ اردو حاشیہ: صحرا میں جہاں اذان کی آواز نہ سنائی دیتی ہو، وہاں کوئی اکیلا مسافر یا چرواہا نماز پڑھنا چاہے تو اذان کہے، البتہ اگر قریبی بستی کی اذان سنائی دیتی ہو تو وہ کافی ہے الگ اذان ضروری نہیں، نیز دیکھیے: [حديث: 645]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 666]
Sunan an-Nasa'i Hadith 666 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← عبد الله بن ربيعة السلمي