Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : الأذان لمن يصلي وحده
باب: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اذان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے (اس) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کر دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 272 (1203)، (تحفة الأشراف: 9919)، مسند احمد 4/145، 157، 158 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥حي بن يؤمن المعافري، أبو عشانة
Newحي بن يؤمن المعافري ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥عمرو بن الحارث الأنصاري، أبو أيوب، أبو أمية
Newعمرو بن الحارث الأنصاري ← حي بن يؤمن المعافري
ثقة فقيه حافظ
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← عمرو بن الحارث الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن سلمة المرادي، أبو الحارث
Newمحمد بن سلمة المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
667
يعجب ربك من راعي غنم في رأس الشظية الجبل يؤذن بالصلاة ويصلي انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة يخاف مني قد غفرت لعبدي وأدخلته الجنة
سنن أبي داود
1203
يعجب ربكم من راعي غنم في رأس شظية بجبل يؤذن بالصلاة ويصلي انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة يخاف مني قد غفرت لعبدي وأدخلته الجنة
سنن نسائی کی حدیث نمبر 667 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 667
667 ۔ اردو حاشیہ:
➊ یعنی فیصلہ کر دیا کہ یہ جنت میں جائے گا میں اسے جنت میں داخل کروں گا۔ بات قطعی ہونے کی وجہ سے ماضی کے الفاظ میں اس کا ذکر ہے۔
تعجب کرتا ہے۔ خوشی، ناراضی، تعجب اور رحمت وغیرہ اللہ تعالیٰ کے اوصاف ہیں، جیسے بھی اس کی ذات کے لائق ہیں، ان کی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید اور حدیث شریف میں ان کا ذکر عام ہے۔ اگر یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لیے مناسب نہ ہوتے تو یوں ذکر نہ ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 667]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1203
سفر میں اذان دینے کا بیان۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر نماز کے لیے اذان دیتا ۱؎ اور نماز ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر /حدیث: 1203]
1203۔ اردو حاشیہ:
➊ اللہ عزوجل کا تعجب کرنا اسی طرح ہے، جو اس کی شان جلالت کے لائق ہے یا پھر «يعجب يرضيٰ» کے معنی میں ہے۔ یعنی خو ش ہوتا ہے۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» اہل سنت والجماعت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں وارد تمام صفات الٰہیہ پر ایمان رکھتے اور ان کا اثبات کرتے ہیں کسی قسم کی تشبیہ، تمثیل، تاویل یا تعطیل کے قائل نہیں ہیں۔
➋ امام ابوداؤد نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اکیلا چرواہا اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے تو مسافر کے لئے بھی اذان و اقامت کہنی مستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1203]