🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب : الإقامة لمن يصلي وحده
باب: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اقامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 668
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 668]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے…… الحدیث۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 148 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (302) مطولاً، (تحفة الأشراف: 3604)، مسند احمد 4/340، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (857، 858، 859، 860)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 57 (460)، ویأتي عند المؤلف: 1054، 1137، 1314، 1315 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ «مسئی صلاۃ» جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب: باب «الرخصۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخصۃ فی الذکر فی السجوداورباب أقل ما یجزی بہ الصلاۃ» میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں «فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم» کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رفاعة بن رافع الزرقي، أبو معاذصحابي
👤←👥يحيى بن خلاد الأنصاري، أبو علي
Newيحيى بن خلاد الأنصاري ← رفاعة بن رافع الزرقي
له رؤية
👤←👥علي بن يحيى الأنصاري، أبو يحيى
Newعلي بن يحيى الأنصاري ← يحيى بن خلاد الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن علي الزرقي
Newيحيى بن علي الزرقي ← علي بن يحيى الأنصاري
مقبول
👤←👥إسماعيل بن جعفر الأنصاري، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن جعفر الأنصاري ← يحيى بن علي الزرقي
ثقة
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← إسماعيل بن جعفر الأنصاري
ثقة حافظ
سنن نسائی کی حدیث نمبر 668 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 668
668 ۔ اردو حاشیہ: امام صاحب نے تفصیلی روایت ذکر نہیں کی۔ یہ مسییٔ الصلاۃ کی حدیث کے نام سے مشہور ہے۔ لیکن اس سے استدلال واضح نہیں ہوتا۔ جبکہ سنن ابوداؤد کے ایک طریق میں اقامت کی تصریح موجود ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فأقِمْ ثمَّ كبِّرْ……» اقامت کہہ، پھر اس کے بعد تکبیر (تحریمہ) کہہ…… دیکھیے: [صحيح سنن أبى داود مفصل للألباني، رقم: 807]
نیز [السنن الكبري للنسائي: 507/1]
میں نفس اسی عنوان کے تحت مذکور حدیث میں اقامت کا ذکر موجود ہے۔ اس طرح حدیث سے امام صاحب رحمہ اللہ کا استدلال واضح ہے کہ اکیلا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے اگرچہ اس کے ساتھ کوئی اور نماز پڑھنے والا نہ ہو کیونکہ اس صورت میں اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے بے شمار لشکر نماز ادا کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے: «فإن أقامَ صلّى معَهُ ملَكاهُ، وإن أذَّنَ وأقامَ صلّى خلفَهُ مِن جنودِ اللَّهِ ما لا يرى طرفاهُ» اگر (صرف) اقامت کہتا ہے تو اس کے ساتھ، اس کے ساتھ والے دونوں فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور اگر اذان اور اقامت کہتا ہے تو اس کے پیچھے اس قدر اللہ کے لشکر نماز پڑھتے ہیں کہ ان کی دونوں اطراف نہیں دیکھی جا سکتیں (کیونکہ صفیں بہت ذراز ہوتی ہیں)۔ دیکھیے: [صحیح الترغیب و الترھیب للألباني: 295/1]
معلوم ہوا اکیلا آدمی اذان بھی دے سکتا ہے اور اقامت بھی کہہ سکتا ہے، بالخصوص جب کہ وہ آبادی سے باہر ہو۔ بہرحال اکیلے آدمی کا اقامت کہنا بے فائدہ نہیں ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 668]

Sunan an-Nasa'i Hadith 668 in Urdu