🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : إمامة الزائر
باب: زائر کی امامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبَانَ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَطِيَّةَ مَوْلًى لَنَا، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ قَوْمًا فَلَا يُصَلِّيَنَّ بِهِمْ".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ انہیں ہرگز نماز نہ پڑھائے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 788]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی دوسرے لوگوں سے ملنے جائے تو انہیں نماز نہ پڑھائے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 66 (596) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة 148 (356) مطولاً، (تحفة الأشراف: 11186)، مسند احمد 3/436، 437، و 5/53 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: إلا یہ کہ وہ لوگ اس کی اجازت دیں جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، جو اوپر گزر چکی ہے جس میں «إلا بإذنہ» کے الفاظ وارد ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مالك بن الحويرث الليثي، أبو سليمانصحابي
👤←👥أبو عطية مولى بني عقيل، أبو عطية
Newأبو عطية مولى بني عقيل ← مالك بن الحويرث الليثي
مقبول
👤←👥بديل بن ميسرة العقيلي
Newبديل بن ميسرة العقيلي ← أبو عطية مولى بني عقيل
ثقة
👤←👥أبان بن يزيد العطار، أبو يزيد
Newأبان بن يزيد العطار ← بديل بن ميسرة العقيلي
ثقة
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← أبان بن يزيد العطار
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥سويد بن نصر المروزي، أبو الفضل
Newسويد بن نصر المروزي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
788
إذا زار أحدكم قوما فلا يصلين بهم
جامع الترمذي
356
من زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم
سنن أبي داود
596
من زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 788 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 788
788 ۔ اردو حاشیہ: تاہم امام کی اجازت سے امامت کرا سکتا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے۔ دیکھیے حدیث نمبر: 3
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 788]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 596
زائر کی امامت کا بیان۔
بدیل کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام ابوعطیہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری اس مسجد میں آتے تھے، (ایک بار) نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو ہم نے ان سے کہا: آپ آگے بڑھئیے اور نماز پڑھائیے، انہوں نے ہم سے کہا: تم اپنے لوگوں میں سے کسی کو آگے بڑھاؤ تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے، میں ابھی تم لوگوں بتاؤں گا کہ میں تمہیں نماز کیوں نہیں پڑھا رہا ہوں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص کسی قوم کی زیارت کے لیے جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی آدمی ان کی امامت کرے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 596]
596۔ اردو حاشیہ:
اصل مسئلہ یوں ہی ہے اور اس کی حکمت واضح ہے کہ مقامی امام اور مقتدیوں کو ایک دوسرے کی عادت و احوال کا بخوبی علم ہوتا ہے، جبکہ زائر کو بالمعوم نہیں ہوتا اور اس سے مقتدیوں کو مشکل ہو سکتی ہے۔ تاہم وہ اگر اس کی خواہش کریں اور امام اجازت دے تو بلاشبہ جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 596]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 356
جو کسی قوم کی زیارت کرے تو وہ ان کی امامت نہ کرے۔
ابوعطیہ عقیلی کہتے ہیں کہ مالک بن حویرث رضی الله عنہ ہماری نماز پڑھنے کی جگہ میں آتے اور حدیث بیان کرتے تھے تو ایک دن نماز کا وقت ہوا تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ آگے بڑھئیے (اور نماز پڑھائیے)۔ انہوں نے کہا: تمہیں میں سے کوئی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے یہاں تک کہ میں تمہیں بتاؤں کہ میں کیوں نہیں آگے بڑھتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو کسی قوم کی زیارت کو جائے تو ان کی امامت نہ کرے بلکہ ان کی امامت ان ہی میں سے کسی آدمی کو کرنی چاہیئے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 356]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(مالک بن حویرث کا مذکورہ قصہ صحیح نہیں ہے،
صرف متنِ حدیث صحیح ہے،
نیز ملاحظہ ہو:
تراجع الألبانی 481)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 356]

Sunan an-Nasa'i Hadith 788 in Urdu