🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. باب : الصف بين السواري
باب: ستونوں کے بیچ صف بندی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 822
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قال: كُنَّا مَعَ أَنَسٍ فَصَلَّيْنَا مَعَ أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ" فَدَفَعُونَا حَتَّى قُمْنَا وَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَجَعَلَ أَنَسٌ يَتَأَخَّرُ وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہم نے حکام میں سے ایک حاکم کے ساتھ نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں (بھیڑ کی وجہ سے) دھکیلا یہاں تک کہ ہم نے دو ستونوں کے درمیان کھڑے ہو کر نماز پڑھی، تو انس رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے اور کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اس سے بچتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 95 (673) مختصراً، سنن الترمذی/الصلاة 55 (229)، (تحفة الأشراف: 980)، مسند احمد 3/131 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد الحميد بن محمود المعولي
Newعبد الحميد بن محمود المعولي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن هانئ المرادي، أبو داود
Newيحيى بن هانئ المرادي ← عبد الحميد بن محمود المعولي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← يحيى بن هانئ المرادي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← سفيان الثوري
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن منصور النسائي، أبو سعيد
Newعمرو بن منصور النسائي ← الفضل بن دكين الملائي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 822 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 822
822 ۔ اردو حاشیہ: ستونوں والی صف کئی جگہ سے کٹ جائے گی اور صف توڑنا گناہ ہے لہٰذا ستونوں والی صف میں کھڑے ہونے کی بجائے اس سے اگلی یا پچھلی صف میں کھڑے ہونا چاہیے۔ صحیح حدیث میں صراحتاً ستونوں کے درمیان صف بنانے سے روکا گیا ہے۔ حضرت قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ستونوں کے درمیان صف بنانے سے منع کیا جاتا تھا اور اس سے سختی کے ساتھ روکا جاتا تھا۔ دیکھیے: [سنن ابن ماجة اقامة الصلوات حدیث: 1002]
البتہ یہی نہی جماعت کی صورت میں ہے۔ اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھنا چاہے تو ستونوں کے درمیان کھڑا ہو سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کے اندر دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کی تھی۔ دیکھیے: [صحیح البخاري الصلاة حدیث: 468]

[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 822]