🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. بَابُ : الْعُذْرِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ
باب: جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ" فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ".
اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: (لوگو!) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 855]
حضرت ابو ملیح اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے اعلان کیا کہ: ”اپنے اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔““ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 213 (1057، 1058، 1059)، سنن ابن ماجہ/إقامة 35 (936)، (تحفة الأشراف: 133)، مسند احمد 5/24، 74، 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن عمير الهذليصحابي
👤←👥أبو المليح بن أسامة الهذلي، أبو المليح
Newأبو المليح بن أسامة الهذلي ← أسامة بن عمير الهذلي
ثقة
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أبو المليح بن أسامة الهذلي
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
855
صلوا في رحالكم
سنن أبي داود
1059
يصلوا في رحالهم
سنن أبي داود
1057
الصلاة في الرحال
سنن ابن ماجه
936
صلوا في رحالكم
سنن نسائی کی حدیث نمبر 855 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 855
855 ۔ اردو حاشیہ: یہ اعلان اذان ہی میں کیا گیا ہے۔ حی علی الفلاح کے بعد یا حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح کی جگہ یا اذان کے اختتام پر۔ اب بھی اگر بارش برس رہی ہو یا بہت زیادہ کیچڑ ہو یا یخ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور مسجد میں پہننا ممکن نہ ہو تو مؤذن یہ اعلان کر سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔ اس مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے کتاب الأذان کا ابتدائیہ دیکھیے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 855]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1059
بارش کے دن جمعہ کے حکم کا بیان۔
ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1059]
«1059۔ اردو حاشيه:»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں جمعہ پڑھانا ثابت نہیں ہے، مقیم لوگوں کے لئے اگر حاضری مشکل ہو تو رخصت ہے۔ البتہ امام حاضرین کو جمعہ پڑھائے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: [صحيح بخاري۔ حديث: 668]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1059]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث936
بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں (گھر سے) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد (اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» ”اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 936]
اردو حاشہ:
فائدہ:

(1)
بارش کے موقع پر گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

(2)
ایسے موقع پر مؤذن کو اذان میں یہ اعلان کردینا چاہیے۔
کہ (صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ)
”اپنی اقامت گاہوں پر نماز پڑھ لو“ (3)
جب کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کون ہیں۔
تو جواب میں اپنا نام لینا چاہیے۔
”میں ہوں“ کہنا مناسبت نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 936]

Sunan an-Nasa'i Hadith 855 in Urdu