سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب : حد إدراك الجماعة
باب: (بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 856
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ الْفِهْرِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ حَضَرَهَا وَلَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 52 (564)، (تحفة الأشراف: 14281)، مسند احمد 2/380 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عوف بن الحارث الأزدي عوف بن الحارث الأزدي ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محصن بن علي الفهري محصن بن علي الفهري ← عوف بن الحارث الأزدي | مقبول | |
👤←👥محمد بن طحلاء المدني، أبو صالح محمد بن طحلاء المدني ← محصن بن علي الفهري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد عبد العزيز بن محمد الدراوردي ← محمد بن طحلاء المدني | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب إسحاق بن راهويه المروزي ← عبد العزيز بن محمد الدراوردي | ثقة حافظ إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
856
| من توضأ فأحسن الوضوء ثم خرج عامدا إلى المسجد فوجد الناس قد صلوا كتب الله له مثل أجر من حضرها ولا ينقص ذلك من أجورهم شيئا |
سنن أبي داود |
564
| من توضأ فأحسن وضوءه ثم راح فوجد الناس قد صلوا أعطاه الله مثل أجر من صلاها وحضرها لا ينقص ذلك من أجرهم شيئا |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 856 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 856
856 ۔ اردو حاشیہ: اس شخص کی نیت جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے ہی کی تھی، پھر اس نے کوئی کوتاہی بھی نہیں کی بلکہ اپنی پوری کوشش کی لیکن پھر بھی جماعت نہ مل سکی۔ اس نے افسوس کیا تو اس کی نیت اور کوشش کے لحاظ سے اسے جماعت کا ثواب ملے گا، بشرطیکہ وہ جماعت کا پابند ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس سے مراد وہ شخص نہیں جو نماز باجماعت میں سستی کا عادی ہے یا زیادہ پروا نہیں کرتا۔ مل جائے تو ٹھیک، نہ ملے تو کوئی افسوس نہیں۔ ایسے شخص کے لیے کم از کم ایک رکعت باجماعت پڑھنے کی صورت میں جماعت کا ثواب ملے گا، کم میں نہیں۔ اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 580، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 607]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 856]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 564
جو نماز کے ارادہ سے نکلا لیکن اس کی جماعت چھوٹ گئی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 564]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 564]
564. اردو حاشیہ:
یہ فضل عظیم اس شخص کی حسن نیت اور جہد کامل کی بنا پر ہوتا ہے۔
یہ فضل عظیم اس شخص کی حسن نیت اور جہد کامل کی بنا پر ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 564]
عوف بن الحارث الأزدي ← أبو هريرة الدوسي