سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : جامع ما جاء في القرآن
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
حدیث نمبر: 941
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ نُفَيْلٍ قال: قَرَأْتُ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قال: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ جَالِسٌ إِذْ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَؤُهَا يُخَالِفُ قِرَاءَتِي فَقُلْتُ لَهُ: مَنْ عَلَّمَكَ هَذِهِ السُّورَةَ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقْنِي حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا خَالَفَ قِرَاءَتِي فِي السُّورَةِ الَّتِي عَلَّمْتَنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا أُبَيُّ" فَقَرَأْتُهَا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْسَنْتَ"، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ:" اقْرَأْ فَقَرَأَ فَخَالَفَ قِرَاءَتِي" فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنْتَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُبَيُّ:" إِنَّهُ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ كُلُّهُنَّ شَافٍ كَافٍ" قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک سورت پڑھائی تھی، میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اسی سورت کو پڑھ رہا ہے، اور میری قرآت کے خلاف پڑھ رہا ہے، تو میں نے اس سے پوچھا: تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، میں نے کہا: تم مجھ سے جدا نہ ہونا جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آ جائیں، میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ شخص وہ سورت جسے آپ نے مجھے سکھائی ہے میرے طریقے کے خلاف پڑھ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی! تم پڑھو“ تو میں نے وہ سورت پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: ”تم پڑھو!“ تو اس نے اسے میری قرآت کے خلاف پڑھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت خوب“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی! قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے، اور ہر ایک درست اور کافی ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: معقل بن عبیداللہ (زیادہ) قوی نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 941]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سورت پڑھائی۔ میں مسجد میں بیٹھا تھا کہ میں نے ایک آدمی کو وہی سورت اپنی قراءت کے خلاف پڑھتے سنا۔ میں نے کہا: ”تجھے یہ سورت کس نے سکھائی ہے؟“ اس نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔“ میں نے کہا: ”مجھ سے جدا نہ ہو حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں۔“ پھر میں (اس کے ساتھ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”یہ شخص اس سورت میں میری قراءت کے خلاف پڑھتا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی! پڑھو۔“ میں نے وہ سورت پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا پڑھا۔“ پھر اس آدمی سے کہا: ”تم پڑھو۔“ اس نے میری قراءت سے مختلف پڑھا تو اسے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے بھی اچھا پڑھا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابی! قرآن سات حروف میں اترا ہے۔ ان میں سے ہر ایک شافی و کافی ہے۔“ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (سند میں مذکور راوی) معقل بن عبید اللہ علمِ حدیث میں قوی نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 46)، مسند احمد 5/114، 127، 128 (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے الف لام کے ساتھ «القوی» کا لفظ استعمال کیا ہے، جس سے مراد ائمہ جرح وتعدیل کے نزدیک یہ ہے کہ ”یہ اتنا قوی نہیں ہیں جتنا صحیح حدیث کے راوی کو ہونا چاہیے“ یہ بقول حافظ ابن حجر «صدوق یخطیٔ» ہیں، یعنی عدالت میں تو ثقہ ہیں مگر حافظہ کے ذرا کمزور ہیں، متابعات اور شواہد سے تقویت پاکر ان کی یہ روایت حسن صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
941
| أنزل القرآن على سبعة أحرف كلهن شاف كاف |
سنن النسائى الصغرى |
942
| بلغ سبعة أحرف كل حرف شاف كاف |
صحيح مسلم |
1904
| اقرأه على سبعة أحرف لك بكل ردة رددتكها مسألة تسألنيها فقلت اللهم اغفر لأمتي اللهم اغفر لأمتي وأخرت الثالثة |
صحيح مسلم |
1906
| الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرف أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك ثم أتاه الثانية فقال إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرفين فقال أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك ثم جاءه الثالثة فقال إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القر |
جامع الترمذي |
2944
| القرآن أنزل على سبعة أحرف |
سنن أبي داود |
1477
| بلغ سبعة أحرف ليس منها إلا شاف كاف إن قلت سميعا عليما عزيزا |
سنن أبي داود |
1478
| تقرئ أمتك على سبعة أحرف أيما حرف قرءوا عليه فقد أصابوا |
المعجم الصغير للطبراني |
1077
| اقرأ القرآن على سبعة |
Sunan an-Nasa'i Hadith 941 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← أبي بن كعب الأنصاري