سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب : القراءة في الصبح بالروم
باب: نماز فجر میں سورۃ الروم پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطُّهُورَ فَإِنَّمَا يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولَئِكَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، اس میں آپ نے سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی، تو آپ کو شک ہو گیا، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، اور ٹھیک سے طہارت حاصل نہیں کرتے، یہی لوگ ہمیں قرآت میں شک میں ڈال دیتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 948]
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو سورۂ روم کی قراءت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشتباہ ہونے لگا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”لوگ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں مگر اچھی طرح وضو نہیں کرتے۔ اس قسم کے لوگ ہم پر قرآن کو مشتبہ کر دیتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15594)، مسند احمد 3/471، 5/363، 368 (حسن) (تراجع الالبانی 72)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥اسم مبهم | 0 | |
👤←👥شبيب بن أبي روح الوحاظي، أبو روح شبيب بن أبي روح الوحاظي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر عبد الملك بن عمير اللخمي ← شبيب بن أبي روح الوحاظي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← عبد الملك بن عمير اللخمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة حافظ |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 948 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 948
948 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح کی نماز میں قرأت لمبی کرنی چاہیے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے صبح کی نماز میں سورۂ مومنون، سورۂ یوسف، سورۂ یونس اور سورۂ کہف وغیرہ پڑھنا ثابت ہے۔
➋ ظاہری کوتاہیوں کا اثر باطن پر بھی ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بہت اعلیٰ اور لطیف تھی۔ ہلکی سی آلائش بھی آپ کو محسوس ہوتی تھی۔ نماز باجماعت میں امام کا روحانی اثر مقتدیوں پر اور مقتدیوں کا روحانی اثر امام پر اور آپس میں ایک دوسرے پر پڑتا ہے اور واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔
➌ وضو مکمل اور اطمینان سے کرنا چاہیے۔ اگر وضو ناقص ہو تو اس کا اثر نمازپر پڑتا ہے۔ اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے تو نماز نہیں ہوتی حتیٰ کہ ایک ناخن کے برابر بھی جگہ خشک رہ جائے تو اس پر بھی سخت وعید ہے۔
➊ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صبح کی نماز میں قرأت لمبی کرنی چاہیے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم سے صبح کی نماز میں سورۂ مومنون، سورۂ یوسف، سورۂ یونس اور سورۂ کہف وغیرہ پڑھنا ثابت ہے۔
➋ ظاہری کوتاہیوں کا اثر باطن پر بھی ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت بہت اعلیٰ اور لطیف تھی۔ ہلکی سی آلائش بھی آپ کو محسوس ہوتی تھی۔ نماز باجماعت میں امام کا روحانی اثر مقتدیوں پر اور مقتدیوں کا روحانی اثر امام پر اور آپس میں ایک دوسرے پر پڑتا ہے اور واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔
➌ وضو مکمل اور اطمینان سے کرنا چاہیے۔ اگر وضو ناقص ہو تو اس کا اثر نمازپر پڑتا ہے۔ اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے تو نماز نہیں ہوتی حتیٰ کہ ایک ناخن کے برابر بھی جگہ خشک رہ جائے تو اس پر بھی سخت وعید ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 948]
Sunan an-Nasa'i Hadith 948 in Urdu
شبيب بن أبي روح الوحاظي ← اسم مبهم