یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب : صفة الوضوء
باب: وضو کا طریقہ۔
حدیث نمبر: 95
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِقْسَمِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي شَيْبَةُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي أَبِي عَلِيٌّ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، قال: دَعَانِي أَبِي عَلِيٌّ بِوَضُوءٍ، فَقَرَّبْتُهُ لَهُ فَبَدَأَ" فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي وَضُوئِهِ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى كَذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا، فَقَالَ: نَاوِلْنِي، فَنَاوَلْتُهُ الْإِنَاءَ الَّذِي فِيهِ فَضْلُ وَضُوئِهِ، فَشَرِبَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا". فَعَجِبْتُ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: لَا تَعْجَبْ، فَإِنِّي رَأَيْتُ أَبَاكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا رَأَيْتَنِي صَنَعْتُ، يَقُولُ: لِوُضُوئِهِ هَذَا وَشُرْبِ فَضْلِ وَضُوئِهِ قَائِمًا.
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی مانگا، تو میں نے اسے (وضو کے پانی کو) انہیں لا کر دیا، آپ نے وضو کرنا شروع کیا، تو اپنی ہتھیلیوں کو اس سے پہلے کہ انہیں اپنے وضو کے پانی میں داخل کریں تین بار دھویا، پھر تین بار کلی کی اور تین بار (پانی لے کر) ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ (بھی) اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر دونوں ٹخنوں تک اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر (دھویا)، پھر آپ اٹھ کر کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: مجھے (برتن) دو، چنانچہ میں نے وہ برتن بڑھا دیا جس میں ان کے وضو کا بچا ہوا پانی تھا، تو آپ نے وضو کا باقی ماندہ پانی کھڑے ہو کر پیا، تو مجھے تعجب ہوا، جب آپ نے میری طرف دیکھا تو بولے: تعجب نہ کرو، میں نے تمہارے نانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا، وہ اپنے اس وضو کے اور اس سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پینے کے متعلق کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 95]
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے وضو کا پانی منگوایا، میں نے پانی آپ کے قریب کیا، آپ نے پہلے اپنی ہتھیلیاں تین دفعہ دھوئیں، پہلے اس سے کہ انھیں پانی میں داخل کریں، پھر آپ نے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک صاف کیا۔ پھر چہرہ تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو کہنی سمیت تین دفعہ دھویا، پھر بائیں کو اسی طرح دھویا، پھر آپ نے سر کا ایک دفعہ مسح کیا، پھر دایاں پاؤں ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھویا، پھر اسی طرح بایاں دھویا، پھر سیدھے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”مجھے برتن پکڑاؤ۔“ میں نے آپ کو برتن پکڑایا جس میں آپ کے وضو سے بچا ہوا پانی تھا۔ آپ نے وہ کھڑے کھڑے پیا۔ مجھے تعجب ہوا۔ جب آپ نے مجھے دیکھا، تو فرمایا: ”تعجب نہ کر، کیونکہ میں نے تیرے نانا نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی طرح کرتے تھے جس طرح تو نے مجھے کرتے دیکھا ہے۔“ آپ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کا اشارہ وضو اور کھڑے ہو کر وضو کا پانی پینے کی طرف تھا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 95]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10075)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة 50 (عقیب 117) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan an-Nasa'i Hadith 95 in Urdu
الحسين بن علي السبط ← علي بن أبي طالب الهاشمي