🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب : القراءة في المغرب بالمرسلات
باب: مغرب میں سورۃ المرسلات پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 986
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، قالت:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ الْمَغْرِبَ فَقَرَأَ الْمُرْسَلَاتِ مَا صَلَّى بَعْدَهَا صَلَاةً حَتَّى قُبِضَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے گھر میں مغرب پڑھائی، تو آپ نے سورۃ المرسلات پڑھی، اس کے بعد آپ نے کوئی بھی نماز نہیں پڑھائی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18050)، مسند احمد 6/338، 339، 340 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥لبابة بنت الحارث الهلالية، أم الفضلصحابية
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← لبابة بنت الحارث الهلالية
صحابي
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة
Newحميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة مدلس
👤←👥عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون، أبو عبد الله، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون ← حميد بن أبي حميد الطويل
ثقة فقيه مصنف
👤←👥موسى بن داود الضبي، أبو عبد الله
Newموسى بن داود الضبي ← عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون
ثقة
👤←👥عمرو بن منصور النسائي، أبو سعيد
Newعمرو بن منصور النسائي ← موسى بن داود الضبي
ثقة ثبت
سنن نسائی کی حدیث نمبر 986 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 986
986 ۔ اردو حاشیہ:
➊ اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں آخری نماز مغرب پڑھائی جبکہ صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظہر کی نماز کے متعلق صراحت ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 687، و صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 418]
ان دونوں روایات میں تعارض نہیں ہے۔ جس حدیث میں ظہر کی نماز کا ذکر ہے، اس سے مراد ہے کہ آپ نے مسجد میں لوگوں کو آخری نماز ظہر کی پڑھائی اور مذکورہ حدیث سے مراد ہے کہ آپ نے بیماری کی وجہ سے گھر میں عورتوں کو مغرب کی نماز پڑھائی۔ دیکھیے: [فتح الباري: 227/2، تحت حدیث: 687]
➋ نماز مغرب میں قرأت کا عام معمول تو چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھنا ہی ہے لیکن اگر کسی وقت لمبی قرأت کرلی جائے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 986]