🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب ما يقول الرجل إذا دخل المقابر
باب: جب آدمی قبرستان میں داخل ہو تو کیا کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنْ أَبِي كُدَيْنَةَ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمَدِينَةِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو كُدَيْنَةَ: اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ، وَأَبُو ظَبْيَانَ اسْمُهُ: حُصَيْنُ بْنُ جُنْدُبٍ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے کی چند قبروں کے پاس سے گزرے، تو ان کی طرف رخ کر کے آپ نے فرمایا: «السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر» سلامتی ہو تم پر اے قبر والو! اللہ ہمیں اور تمہیں بخشے تم ہمارے پیش روہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے،
۲- اس باب میں بریدہ رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5403) (ضعیف) (اس کے راوی ”قابوس“ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے صحابہ کی روایت سے یہ حدیث ثابت ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (1765) // ضعيف الجامع الصغير (3372) ، أحكام الجنائز (197) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1053) إسناده ضعيف
قابوس: ضعيف (د 3032)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥الحصين بن جندب المذحجي، أبو ظبيان
Newالحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قابوس بن أبي ظبيان الجنبي
Newقابوس بن أبي ظبيان الجنبي ← الحصين بن جندب المذحجي
مقبول
👤←👥يحيى بن المهلب البجلي، أبو كدينة
Newيحيى بن المهلب البجلي ← قابوس بن أبي ظبيان الجنبي
ثقة
👤←👥محمد بن الصلت الأسدي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصلت الأسدي ← يحيى بن المهلب البجلي
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← محمد بن الصلت الأسدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1053
السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر
بلوغ المرام
481
السلام عليكم يا اهل القبور يغفر الله لنا ولكم،‏‏‏‏ انتم سلفنا،‏‏‏‏ ونحن بالاثر
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1053 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1053
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کے راوی قابوس ضعیف ہیں،
لیکن دوسرے صحابہ کی روایت سے یہ حدیث ثابت ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1053]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 481
اصحاب القبور کو سلام کرنا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مدینہ کے قبرستان سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اہل قبور! تم پر سلام ہو! اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے! تم ہمارے پیش رو ہو ہم تمہارے پیچھے چلے آ رہے ہیں۔ [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 481]
لغوی تشریح:
«أَنْتُمْ سَلَفُنَا» «سلْفُنَا» میں سین اور لام دونوں پر فتحہ ہے، یعنی پہلے فوت ہونے والے۔
«وَنَحْنُ بِالْاَثْرِ» «اثر» میں ہمزہ اور ثا پر فتحہ ہے، یعنی ہم تمہارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں اور تمہیں ملنے والے ہیں۔

فائدہ: اصحاب القبور کو سلام، ایک دعائیہ کلام ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے حضور ان کے لے سلامتی کی دعا ہوتی ہے، مردوں کی سنانا مقصود نہیں ہوتا، جس طرح خط لکھتے وقت غائب دوست کو مخاطب کر کے السلام علیکم کہا جاتا ہے، اس سے خطاب مقصود نہیں ہوتا بلکہ دعائیہ کلام مقصود ہوتا ہے۔ بعینہ اصحاب القبور کو سلام سنانا مقصود نہیں ہوتا اور نہ وہ سنتے ہیں جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا: «وَمَا أَنْتَ بِمُسْمعِ مَّنْ فِي الْقُبُورِ» [الفاطر، 22: 35]
یعنی آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 481]