سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب ما جاء أن تحت كل شعرة جنابة
باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ ". وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ وَجِيهٍ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذَاكَ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، وَيُقَالُ: الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ وَجْبَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بال کے نیچے جنابت کا اثر ہوتا ہے، اس لیے بالوں کو اچھی طرح دھویا کرو اور کھال کو اچھی طرح مل کر صاف کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 106]
۱- اس باب میں علی اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- حارث بن وجیہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف انہیں کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ قوی نہیں ہیں ۱؎، وہ اس حدیث کو مالک بن دینار سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 98 (248)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 106 (597)، (تحفة الأشراف: 14502) (ضعیف) (سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے)»
وضاحت: ۱؎: اس لفظ ”قوی نہیں ہیں“ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے، ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جا سکتی ہیں، ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (597) ، // ضعيف سنن ابن ماجة (132) ، ضعيف أبي داود (46 / 248) ، المشكاة (443) ، الروض النضير (704) ، ضعيف الجامع الصغير - بترتيبي - رقم (1847) //
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 248 ، جه 597
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥مالك بن دينار السامي، أبو يحيى مالك بن دينار السامي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة | |
👤←👥الحارث بن وجيه البصري، أبو محمد الحارث بن وجيه البصري ← مالك بن دينار السامي | ضعيف الحديث | |
👤←👥نصر بن علي الأزدي، أبو عمرو نصر بن علي الأزدي ← الحارث بن وجيه البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
106
| تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وأنقوا البشر |
سنن أبي داود |
248
| تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وأنقوا البشر |
سنن ابن ماجه |
597
| تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وأنقوا البشرة |
بلوغ المرام |
108
| إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 106 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 106
اردو حاشہ:
1؎:
اس لفظ ”قوی نہیں ہیں“ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے،
ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں،
ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
نوٹ:
(سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے)
1؎:
اس لفظ ”قوی نہیں ہیں“ کا تعلق جرح کے مراتب کے پہلے مرتبہ سے ہے،
ایسے راوی کی روایت قابل اعتبار یعنی تقویت کے قابل ہے اور اس کی تقویت کے لیے مزید روایات تلاش کی جاسکتی ہیں،
ایسا نہیں کہ اس کی روایت سرے سے درخوراعتناء ہی نہ ہو۔
نوٹ:
(سند میں حارث وجیہ ضعیف راوی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 106]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 108
غسل جنابت میں سارا جسم دھونا فرض ہے
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 108]
«. . . قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ہر بال کی تہہ (نیچے) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو (اچھی طرح) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح (مل کر) صاف کیا کرو . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 108]
لغوی تشریح:
«أَنْقُوْا» «إِنْقَاء» سے ماخوذ ہے۔ امر کا صیغہ ہے۔ صاف کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
«اَلْبَشَرَ» ”با“ اور ”شین“ پر فتحہ ہے۔ انسان کی جلد کا ظاہر۔ آدمی کی جلد کی اوپر والی سطح۔
«وَضَعَّفَاهُ» اسے دونوں [ابوداود اور ترمذي] نے ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے کہ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن وجیہ ضعیف ہے۔ محدثین نے اس کی روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن یہی بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ غسل جنابت میں سارا جسم دھونا فرض ہے، البتہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔
➋ احناف کے نزدیک یہ بھی فرضیت کے حکم میں شامل ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کا بھی مشہور قول یہی ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسنون ہے۔
➌ بہرحال احادیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ غسل جنابت میں سارا بدن حتی کہ بالوں کو خوب اچھی طرح مل کر دھونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ بلا کسی اشد مجبوری کے جسم کا کوئی حصہ بال برابر یا بالوں کے نیچے جگہ خشک رہ جائے۔
«أَنْقُوْا» «إِنْقَاء» سے ماخوذ ہے۔ امر کا صیغہ ہے۔ صاف کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
«اَلْبَشَرَ» ”با“ اور ”شین“ پر فتحہ ہے۔ انسان کی جلد کا ظاہر۔ آدمی کی جلد کی اوپر والی سطح۔
«وَضَعَّفَاهُ» اسے دونوں [ابوداود اور ترمذي] نے ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے کہ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن وجیہ ضعیف ہے۔ محدثین نے اس کی روایت کو منکر قرار دیا ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن یہی بات صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ غسل جنابت میں سارا جسم دھونا فرض ہے، البتہ کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔
➋ احناف کے نزدیک یہ بھی فرضیت کے حکم میں شامل ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کا بھی مشہور قول یہی ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ مسنون ہے۔
➌ بہرحال احادیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ غسل جنابت میں سارا بدن حتی کہ بالوں کو خوب اچھی طرح مل کر دھونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ بلا کسی اشد مجبوری کے جسم کا کوئی حصہ بال برابر یا بالوں کے نیچے جگہ خشک رہ جائے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 108]
محمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي