سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب ما جاء إذا التقى الختانان وجب الغسل
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطہارة 111 (208)، (تحفة الأشراف: 17499)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/الحیض 22 (349)، وط/الطہارة 18 (73)، و مسند احمد (6/47، 97، 112، 227، 239، 265) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہو گیا، پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہو تب غسل واجب ہو گا، جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہو گیا، دیکھئیے اگلی حدیث۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (608)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
785
| جلس بين شعبها الأربع ومس الختان الختان فقد وجب الغسل |
جامع الترمذي |
109
| إذا جاوز الختان الختان وجب الغسل |
جامع الترمذي |
108
| إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل |
سنن ابن ماجه |
608
| إذا التقى الختانان فقد وجب الغسل |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 108 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 108
اردو حاشہ:
1؎:
گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا،
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہوتب غسل واجب ہوگا،
جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا،
دیکھئے اگلی حدیث۔
1؎:
گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا،
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہوتب غسل واجب ہوگا،
جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا،
دیکھئے اگلی حدیث۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 108]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث608
مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
اردو حاشہ:
ختنے ملنے سے مراد جنسی اعضاء کا ملنا، یعنی عمل مباشرت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب جنسی ملاپ کا عمل شروع کردیا جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
ختنے ملنے سے مراد جنسی اعضاء کا ملنا، یعنی عمل مباشرت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب جنسی ملاپ کا عمل شروع کردیا جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 608]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 109
مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 109]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 785
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ کا اختلاف ہوا، انصاریوں نے کہا: غسل اس صورت میں فرض ہوتا ہے، جب منی ٹپک کر نکلے یا انزال ہو اور مہاجروں نے کہا: جب مرد، عورت سے صحبت کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، ابو موسیٰ نے کہا، میں اس مسئلے میں تمہاری تسلی کیے دیتا ہوں تو میں اٹھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے باریابی کی اجازت طلب کی، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا: اےامی جان! یا اے مومنوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:785]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عَلَي الْخَيْرِ سَقَطْتَ:
محاورہ ہے،
جس کا معنی ہوتا ہے،
مسئلہ حقیقت سے جو آگاہ ہے تو نے اس سے پوچھا مس الختان:
الختان (کنایہ ہے میاں بیوی کی صحبت اور تعلقات سے،
محض چھونا مراد نہیں)
۔
مفردات الحدیث:
عَلَي الْخَيْرِ سَقَطْتَ:
محاورہ ہے،
جس کا معنی ہوتا ہے،
مسئلہ حقیقت سے جو آگاہ ہے تو نے اس سے پوچھا مس الختان:
الختان (کنایہ ہے میاں بیوی کی صحبت اور تعلقات سے،
محض چھونا مراد نہیں)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 785]
Sunan at-Tirmidhi Hadith 108 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق