سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
111. . بَابُ : مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ مِنَ الْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب۔
حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:" إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب (مرد اور عورت کے) ختنے (شرمگاہیں) باہم مل جائیں، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیا تو ہم نے غسل کیا۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 80 (108)، (تحفة الأشراف: 17499)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 18 (72)، مسند احمد (6/ 161، 161، 239) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
785
| جلس بين شعبها الأربع ومس الختان الختان فقد وجب الغسل |
جامع الترمذي |
109
| إذا جاوز الختان الختان وجب الغسل |
جامع الترمذي |
108
| إذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل |
سنن ابن ماجه |
608
| إذا التقى الختانان فقد وجب الغسل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 608 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث608
اردو حاشہ:
ختنے ملنے سے مراد جنسی اعضاء کا ملنا، یعنی عمل مباشرت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب جنسی ملاپ کا عمل شروع کردیا جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
ختنے ملنے سے مراد جنسی اعضاء کا ملنا، یعنی عمل مباشرت ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جب جنسی ملاپ کا عمل شروع کردیا جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 608]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 108
مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام (عضو تناسل) عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
اردو حاشہ:
1؎:
گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا،
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہوتب غسل واجب ہوگا،
جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا،
دیکھئے اگلی حدیث۔
1؎:
گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہوگیا،
پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہوتب غسل واجب ہوگا،
جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہوگیا،
دیکھئے اگلی حدیث۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 108]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 109
مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد کے ختنے کا مقام عورت کے ختنے کے مقام (شرمگاہ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 109]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں،
لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 109]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 785
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ کا اختلاف ہوا، انصاریوں نے کہا: غسل اس صورت میں فرض ہوتا ہے، جب منی ٹپک کر نکلے یا انزال ہو اور مہاجروں نے کہا: جب مرد، عورت سے صحبت کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، ابو موسیٰ نے کہا، میں اس مسئلے میں تمہاری تسلی کیے دیتا ہوں تو میں اٹھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے باریابی کی اجازت طلب کی، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا: اےامی جان! یا اے مومنوں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:785]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
عَلَي الْخَيْرِ سَقَطْتَ:
محاورہ ہے،
جس کا معنی ہوتا ہے،
مسئلہ حقیقت سے جو آگاہ ہے تو نے اس سے پوچھا مس الختان:
الختان (کنایہ ہے میاں بیوی کی صحبت اور تعلقات سے،
محض چھونا مراد نہیں)
۔
مفردات الحدیث:
عَلَي الْخَيْرِ سَقَطْتَ:
محاورہ ہے،
جس کا معنی ہوتا ہے،
مسئلہ حقیقت سے جو آگاہ ہے تو نے اس سے پوچھا مس الختان:
الختان (کنایہ ہے میاں بیوی کی صحبت اور تعلقات سے،
محض چھونا مراد نہیں)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 785]
Sunan Ibn Majah Hadith 608 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق