🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
84. باب ما جاء في المذي يصيب الثوب
باب: کپڑے میں مذی لگ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 115
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ هُوَ ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً وَعَنَاءً فَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنْهُ الْغُسْلَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ " , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ: " يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهِ ثَوْبَكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ مِنْهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق فِي الْمَذْيِ مِثْلَ هَذَا، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَذْيِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُجْزِئُ إِلَّا الْغَسْلُ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ , وَإِسْحَاق، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يُجْزِئُهُ النَّضْحُ، وقَالَ أَحْمَدُ: أَرْجُو أَنْ يُجْزِئَهُ النَّضْحُ بِالْمَاءِ.
سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف سے دوچار ہونا پڑتا تھا، میں اس کی وجہ سے کثرت سے غسل کیا کرتا تھا، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے کیا اور اس سلسلے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے تمہیں وضو کافی ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ کپڑے میں لگ جائے تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: تو ایک چلو پانی لے اور اسے کپڑے پر جہاں جہاں دیکھے کہ وہ لگی ہے چھڑک لے یہ تمہارے لیے کافی ہو گا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- ہم مذی کے سلسلہ میں اس طرح کی روایت محمد بن اسحاق کے طریق سے ہی جانتے ہیں،
۳- کپڑے میں مذی لگ جانے کے سلسلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے، بعض کا قول ہے کہ دھونا ضروری ہے، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، اور بعض اس بات کے قائل ہیں کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا۔ امام احمد کہتے ہیں: مجھے امید ہے کہ پانی چھڑک لینا کافی ہو گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة 83 (210)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 70 (506)، (تحفة الأشراف: 4664)، مسند احمد (3/485)، سنن الدارمی/الطہارة 49 (750) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں «نضح» چھڑکنا ہی آیا ہے، ہاں بطور نظافت کوئی دھو لے تو یہ اس کی اپنی پسند ہے، واجب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (506)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن حنيف الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو ثابت، أبو الوليد، أبو سعدصحابي
👤←👥عبيد بن السباق الثقفي، أبو سعيد
Newعبيد بن السباق الثقفي ← سهل بن حنيف الأنصاري
ثقة
👤←👥سعيد بن عبيد الثقفي، أبو السباق
Newسعيد بن عبيد الثقفي ← عبيد بن السباق الثقفي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← سعيد بن عبيد الثقفي
صدوق مدلس
👤←👥عبدة بن سليمان الكوفي، أبو محمد
Newعبدة بن سليمان الكوفي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة ثبت
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← عبدة بن سليمان الكوفي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
115
يكفيك أن تأخذ كفا من ماء فتنضح به ثوبك حيث ترى أنه أصاب منه
سنن أبي داود
210
يكفيك بأن تأخذ كفا من ماء فتنضح بها من ثوبك حيث ترى أنه أصابه
سنن ابن ماجه
506
يكفيك كف من ماء تنضح به من ثوبك حيث ترى أنه أصاب
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 115 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 115
اردو حاشہ:
1؎:
اور یہی راجح ہے کیونکہ حدیث میں ((نَضْحُ)) چھڑکنا ہی آیاہے،
ہاں بطور نظافت کوئی دھولے تو یہ اس کی اپنی پسندہے،
واجب نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 115]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 210
مذی کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جائے گا
«. . . قَالَ: إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ . . .»
. . . آپ نے فرمایا: اس میں صرف وضو کافی ہے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 210]
فوائد و مسائل:
➊ اس سے معلوم ہوا کہ مذی کے نکلنے سے وضو تو ٹوٹ جائے گا، لیکن کپڑے کو دھونا ضروری نہیں، بلکہ اس جگہ پر چھینٹے مار لینا ہی کافی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 210]