🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء في الرخصة في الشراء إلى أجل
باب: کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1213
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمَرُو بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ، فَكَانَ إِذَا قَعَدَ فَعَرِقَ ثَقُلَا عَلَيْهِ، فَقَدِمَ بَزٌّ مِنْ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ، فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ، فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا يُرِيدُ إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِمَالِي، أَوْ بِدَرَاهِمِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ، وَآدَاهُمْ لِلْأَمَانَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ فِرَاسٍ الْبَصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ، يَقُولُ: سُئِلَ شُعْبَةُ يَوْمًا، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: لَسْتُ أُحَدِّثُكُمْ حَتَّى تَقُومُوا إِلَى حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، فَتُقَبِّلُوا رَأَسَهُ، قَالَ: وَحَرَمِيٌّ فِي الْقَوْمِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: أَيْ إِعْجَابًا بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر دو موٹے قطری کپڑے تھے، جب آپ بیٹھتے اور پسینہ آتا تو وہ آپ پر بوجھل ہو جاتے، شام سے فلاں یہودی کے کپڑے آئے۔ تو میں نے عرض کیا: کاش! آپ اس کے پاس کسی کو بھیجتے اور اس سے دو کپڑے اس وعدے پر خرید لیتے کہ جب گنجائش ہو گی تو قیمت دے دیں گے، آپ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، تو اس نے کہا: جو وہ چاہتے ہیں مجھے معلوم ہے، ان کا ارادہ ہے کہ میرا مال یا میرے دراہم ہڑپ کر لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جھوٹا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ میں لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن غریب صحیح ہے،
۲- اسے شعبہ نے بھی عمارہ بن ابی حفصہ سے روایت کیا ہے،
۳- ابوداؤد طیالسی کہتے ہیں: ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں تم سے اس وقت اسے نہیں بیان کر سکتا جب تک کہ تم کھڑے ہو کر حرمی بن عمارہ بن ابی حفصہ (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) کا سر نہیں چومتے اور حرمی (وہاں) لوگوں میں موجود تھے، انہوں نے اس حدیث سے حد درجہ خوش ہوتے ہوئے یہ بات کہی،
۴- اس باب میں ابن عباس، انس اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/البیوع 70 (4632)، مسند احمد (6/147) (تحفة الأشراف: 1740) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ایک معینہ مدت تک کے لیے ادھار سودا کرنا درست ہے کیونکہ آپ نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا، اسی سے باب پر استدلال ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح أحاديث البيوع

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمارة بن أبي حفصة الأزدي، أبو الحكمثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمارة بن أبي حفصة الأزدي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← شعبة بن الحجاج العتكي
صحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥عمارة بن أبي حفصة الأزدي، أبو الحكم
Newعمارة بن أبي حفصة الأزدي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية
Newيزيد بن زريع العيشي ← عمارة بن أبي حفصة الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥عمرو بن علي الفلاس، أبو حفص
Newعمرو بن علي الفلاس ← يزيد بن زريع العيشي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
4632
أني من أتقاهم لله وآداهم للأمانة
جامع الترمذي
1213
أني من أتقاهم لله وآداهم للأمانة
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1213 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1213
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے معلوم ہواکہ ایک معینہ مدت تک کے لیے ادھارسودا کرنا درست ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی بیع پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اس یہودی کے پاس اس کے لیے آدمی بھیجا،
اسی سے باب پراستدلال ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1213]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4632
متعینہ مدت تک کے لیے ادھار بیچنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قطری چادریں تھیں، جب آپ بیٹھتے اور ان میں پسینہ آتا تو وہ بھاری ہو جاتیں، ایک یہودی کا شام سے کپڑا آیا تو میں نے عرض کیا: اگر آپ اس کے پاس کسی کو بھیج کر تاوقت سہولت (قیمت ادا کرنے کے وعدہ پر) دو کپڑے خرید لیتے تو بہتر ہوتا، چنانچہ آپ نے اس کے پاس ایک شخص کو بھیجا، اس (یہودی) نے کہا: مجھے معلوم ہے محمد کیا چاہتے ہیں، وہ تو میرا مال ہضم کرنا چاہتے ہیں، یا ی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4632]
اردو حاشہ:
(1) معلوم ہوا معین مدت تک ادھار سودا لینا جائز ہے۔ اگر ایسا کرنا، جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز یہ کام نہ کرتے اور وہ بھی خبیث الفطرت یہودی سے۔
(2) یہ حدیث مبارکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سادگی اور آپ کی کسمپرسانہ زندگی گزارنے پر بھی دلالت کرتی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار دیا تھا کہ آپ چاہیں تو آپ کو بادشاہ نبی بنا دیا جائے اور اگر چاہیں تو عبد بنایا جائے۔ اس پیش کش کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد، یعنی اللہ کے درکا فقیر نبی بننے ہی کو ترجیح دی۔ یہ اس لیے کہ آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں، آخرت میں جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اسی باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیوی مال و متاع اور بادشاہت کو ذرہ برابر حیثیت نہیں دی۔
(3) یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کی نسبت اللہ سے زیادہ ڈرتے تھے، اس لیے آپ کے طریقے سے ہٹ کر خوف الہٰی کے خود ساختہ طریقے مردود ہیں اور ایسا دعوٰی کرنے والا انسان جھوٹا ہے، نیز آپ تمام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ باوفا اور ایفائے عہد کرنے والے اور سب سے بڑھ کر امانتیں ادا کرنے والے تھے۔
(4) آپ کا یہودیوں کے ساتھ معاملات اور لین دین کرنا، جبکہ وہ واضح طور پر رشوت اور حرام خور لوگ تھے، اس بات کی دلیل ہے کہ جس کے پاس حرام مال ہو اس کے ساتھ معاملہ کرنا درست ہے بشرطیکہ جس مال کا معاملہ ہو رہا ہے وہ حرام نہ ہو۔ واللہ أعلم۔
(5) جب سہولت ہو گی گویا آپ نے کوئی مدت مقرر نہ فرمائی تھی جبکہ باب میں معین مدت کا ذکر ہے، لہٰذا باب یوں ہونا چاہیے غیر معینہ مدت تک بیع اور سنن کبرٰی میں یہ باب اسی طرح ہے تاکہ حدیث باب کے مطابق بن سکے۔
(6) قطر بستی یہ بحرین کے علاقے کی ایک بستی تھی جہاں بہترین کپڑے تیار ہوتے تھے۔
(7) اگر باب کا عنوان یہی رہے جو ہے تو حدیث سے مناسبت اس طرح ہو گی کہ سہولت کا وقت ان کے ہاں متعین تھا، مثلاً: جب کٹائی کا وقت ہو اور کھجوریں گھروں میں آئیں وغیرہ۔ یہ بھی تعین ہی ہے۔
(8) میں جانتا ہوں یعنی اس نے صرف ادھار سے بچنے کے لیے یہ جھوٹ گھڑا ہے ورنہ اس کے دل میں بھی یہ بات نہیں تھی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4632]