🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. باب ما جاء في احتلاب المواشي بغير إذن الأرباب
باب: مالک کی اجازت کے بغیر جانور کے دوہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا أَحَدٌ فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى 12: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، وَقَالُوا: إِنَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ سَمُرَةَ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس (دودھ پینے) آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ پی لے۔ اگر ان میں کوئی نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے، اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- سمرہ کی حدیث حسن غریب ہے،
۲- اس باب میں عمر اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں،
۴- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے،
۵- بعض محدثین نے حسن کی روایت میں جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے کلام کیا ہے، وہ لوگ کہتے ہیں کہ حسن سمرہ کے صحیفہ سے حدیث روایت کرتے تھے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الجہاد 93 (2619)، (تحفة الأشراف: 4591) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لیے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو یہ تاویل اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ حدیث ایک دوسری حدیث «للايحلبنّ أحد ماشية أحدٍ بغير إذنه» کے معارض ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کے پاس بھی لکھی ہوئی احادیث کا صحیفہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2300)
قال الشيخ زبير على زئي:(1296) إسناده ضعيف / د 2619

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥يحيى بن خلف الجوباري، أبو سلمة
Newيحيى بن خلف الجوباري ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1296
إذا أتى أحدكم على ماشية فإن كان فيها صاحبها فليستأذنه فإن أذن له فليحتلب وليشرب إن لم يكن فيها أحد فليصوت ثلاثا فإن أجابه أحد فليستأذنه فإن لم يجبه أحد فليحتلب وليشرب ولا يحمل
سنن أبي داود
2619
إذا أتى أحدكم على ماشية فإن كان فيها صاحبها فليستأذنه فإن أذن له فليحلب وليشرب فإن لم يكن فيها فليصوت ثلاثا فإن أجابه فليستأذنه وإلا فليحتلب وليشرب ولا يحمل
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1296 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1296
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ حکم اس پرپشان حال اور مضطرومجبورمسافر کے لیے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو یہ تاویل اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ حدیث ایک دوسری حدیث لايحلبنّ أحد ماشية أحدٍ بغير إذنه کے معارض ہے۔
2؎:
اس سے معلوم ہوا کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس بھی لکھی ہوئی احادیث کا صحیفہ تھا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1296]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2619
مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2619]
فوائد ومسائل:

ان احادیث کی کتاب الجہاد میں بیان ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مجاہدین سفر میں ہوتے ہیں۔
اور کھانا پینا ان کی لازمی ضرورت ہے۔
اور اہل علاقہ یہ ضروریات مہیا کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔


علامہ خطابی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں۔
کہ یہ رخصت ایسے مسافر کےلئے ہے۔
جو اضطراری (مجبوری کی) کیفیت میں ہوکہ اگر وہ نہ کھائے پئے تو ہلاکت کا اندیشہ ہو جبکہ کچھ اصحاب الحدیث کہتے ہیں۔
یہ ایسا مال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مالک بنایا ہے۔
(جان بچانے کی حد تک اسے کھانے کی اجازت دی ہے۔
) تو اس کے لئے مباح ہے۔
اور اس پرکوئی قیمت لازم نہیں آتی۔
مگر اکثر فقہاء کا کہنا ہے کہ اس پرقیمت لازم ہوگی۔
بشرط یہ کہ وہ قیمت دے سکتا ہو۔
کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
کسی مسلمان کی خوش دلی اوررضامندی کے بغیر اس کا مال لینا حلال نہیں ہے۔
(مسنداحمد:72/5) تاہم اگر کسی علاقے کے عرف عام میں تھوڑے بہت کھانے پینے کی اجازت ہوتو وہاں اجازت کی ضرورت ہوگی۔
نہ قیمت دینے کی۔
عرف عام ہی اجازت کے مترادف ہوگا۔
جیسا کہ آج سے پیشتر عام دیہاتوں میں یہ عرف عام تھا۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2619]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1296 in Urdu