سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب ما جاء فيمن يكسر له الشىء ما يحكم له من مال الكاسر
باب: جس کی کوئی چیز توڑ دی جائے تو توڑنے والے کے مال سے اس کا تاوان لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 1360
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ قَصْعَةً , فَضَاعَتْ فَضَمِنَهَا لَهُمْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ , وَإِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي سُوَيْدٌ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أصح اسم أبي داود عمر بن سعد.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگنی لیا وہ ٹوٹ گیا، تو آپ نے جن سے پیالہ لیا تھا انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث محفوظ نہیں ہے،
۲- سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ۱؎،
۳- ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1360]
۱- یہ حدیث محفوظ نہیں ہے،
۲- سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ۱؎،
۳- ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1360]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 688) (ضعیف جداً) (سند میں ”سوید بن عبد العزیز“ سخت ضعیف ہے، صحیح واقعہ وہ جو اگلی حدیث میں مذکور ہے)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ سوید بن عبدالعزیز کو مذکورہ حدیث کی روایت میں وہم ہوا ہے انہوں نے اسے حمید کے واسطے سے انس سے «أن النبي صلى الله عليه وسلم استعار قصعة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کر دیا جو محفوظ نہیں ہے بلکہ محفوظ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے حمید کے واسطے سے انس سے «أهدت بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبير على زئي:(1360) إسناده ضعيف
سويد بن عبدالعزيز ضعيف (تق:2692) وقال الھيثمي: وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 147/3) وقال أيضاً: وفيه سويد بن عبدالعزيز وقد أجمعوا على ضعفه (مجمع الزوائد 141/1) !! والحديث السابق (الأصل : 1359) يغني عنه
سويد بن عبدالعزيز ضعيف (تق:2692) وقال الھيثمي: وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 147/3) وقال أيضاً: وفيه سويد بن عبدالعزيز وقد أجمعوا على ضعفه (مجمع الزوائد 141/1) !! والحديث السابق (الأصل : 1359) يغني عنه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1360
| استعار قصعة فضاعت فضمنها لهم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1360 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1360
اردو حاشہ: 1؎:
مطلب یہ ہے کہ سوید بن عبدالعزیزکو مذکورہ حدیث کی روایت میں وہم ہوا ہے انہوں نے اسے حمید کے واسطے سے انس سے 'أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم اسْتَعَارَ قَصْعَةً 'کے الفاظ کے ساتھ روایت کردیا جو محفوظ نہیں ہے بلکہ محفوظ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے حمید کے واسطے سے انس سے 'أهدت بعض أزواج النبي صلی اللہ علیہ وسلم 'کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ:
(سند میں 'سوید بن عبد العزیز' سخت ضعیف ہے،
صحیح واقعہ وہ جو اگلی حدیث میں مذکورہے)
مطلب یہ ہے کہ سوید بن عبدالعزیزکو مذکورہ حدیث کی روایت میں وہم ہوا ہے انہوں نے اسے حمید کے واسطے سے انس سے 'أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم اسْتَعَارَ قَصْعَةً 'کے الفاظ کے ساتھ روایت کردیا جو محفوظ نہیں ہے بلکہ محفوظ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے حمید کے واسطے سے انس سے 'أهدت بعض أزواج النبي صلی اللہ علیہ وسلم 'کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
نوٹ:
(سند میں 'سوید بن عبد العزیز' سخت ضعیف ہے،
صحیح واقعہ وہ جو اگلی حدیث میں مذکورہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1360]
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري