🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما جاء فيمن زرع في أرض قوم بغير إذنهم
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ , فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَالَ: لَا أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ رِوَايَةِ شَرِيكٍ , قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دوسرے کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل بوئے، اس کو فصل سے کچھ نہیں ملے گا وہ صرف خرچ لے سکتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک بن عبداللہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں،
۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۱؎
۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے، انہوں نے کہا: میں اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک ہی کے طریق سے جانتا ہوں،
۵- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ہم سے معقل بن مالک بصریٰ نے بسند «عقبة بن الأصم عن عطاء عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ البیوع 33 (3403)، سنن ابن ماجہ/الرہون 13 (الأحکام 74)، (2466)، (تحفة الأشراف: 3570)، و مسند احمد (3/465) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور یہی قول راجح ہے اس کے برخلاف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ فصل تو غاصب کی ہو گی اور زمین کا مالک اس سے زمین کا کرایہ وصول کرے گا، مگر اس قول پر کوئی دلیل ایسی نہیں جسے اس حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جا سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2466)
قال الشيخ زبير على زئي:(1366) إسناده ضعيف / د 3403، جه 2466

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← رافع بن خديج الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥عقبة بن عبد الله الأصم
Newعقبة بن عبد الله الأصم ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ضعيف الحديث
👤←👥معقل بن مالك الباهلي، أبو شريك، أبو بشر
Newمعقل بن مالك الباهلي ← عقبة بن عبد الله الأصم
مقبول
👤←👥محمد بن إسماعيل البخاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن إسماعيل البخاري ← معقل بن مالك الباهلي
جبل الحفظ وإمام الدنيا في فقه الحديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد الله
Newرافع بن خديج الأنصاري ← محمد بن إسماعيل البخاري
صحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← رافع بن خديج الأنصاري
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة مكثر
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1366
من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته
سنن أبي داود
3403
من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته
سنن ابن ماجه
2466
من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وترد عليه نفقته
بلوغ المرام
757
من زرع في أرض قوم بغير إذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1366 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1366
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اور یہی قول راجح ہے اس کے برخلاف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ فصل تو غاصب کی ہوگی اورزمین کا مالک اس سے زمین کا کرایہ وصول کرے گا،
مگر اس قول پرکوئی دلیل ایسی نہیں جسے اس حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جاسکے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1366]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 757
غصب کا بیان
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے دوسرے لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر زراعت کی تو اسے اس زراعت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ اسے صرف وہ اخراجات ملیں گے جو اس نے خرچ کئے ہیں۔ اسے احمد اور نسائی کے علاوہ چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ بخاری نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 757»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في زرع الأرض بغير إذن صاحبها، حديث:3403، والترمذي، الأحكام، حديث:1366، وابن ماجه، الرهون، حديث:2466، وأحمد:4 /141.* عطاء لم يسمع من رافع رضي الله عنه، وأبوإسحاق عنعن.»
تشریح:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد اور متابعات کی وجہ سے صحیح قرار دیا ہے اور انھوں نے اس کی بابت سیرحاصل بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد اور متابعات کی بنا پر قابل حجت اور قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۲۵ /۱۳۸ .۱۴۲‘ والإراوء‘ رقم:۱۵۱۹‘ والضعیفۃ:۱ /۱۴۱‘ حدیث:۸۸)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 757]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3403
زمین کے مالک کی اجازت کے بغیر زمین میں کھیتی کرنے کا بیان۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوسرے لوگوں کی زمین میں بغیر ان کی اجازت کے کاشت کی تو اسے کاشت میں سے کچھ نہیں ملے گا صرف اس کا خرچ ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3403]
فوائد ومسائل:
کسی دوسرے کی ملکیتی زمین میں بلااجازت تصرف جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3403]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2466
بلا اجازت دوسرے کی زمین میں کھیتی کرنے کا بیان۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2466]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نےسنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل اورقابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 25 ؍138، 142 والإراواء للألبانی رقم: 1519، الضعیفة: 1/ 141حدیث: 88)

(2)
جس طرح کسی کو کاشت کےلیے بلامعاوضہ زمین عاریتاً دے دینا بڑے ثواب کا کام ہے اسی طرح کسی کی زمین پراس کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کرلینا بڑا گناہ ہے۔
اگر ایک آدمی دوسرے کی زمین میں بلا اجازت کاشت کرے تواس کی سزا یہ ہے کہ وہ پیداوار زمین کے مالک کودے دی جائے۔

(3)
اس صورت میں کاشت کرنے والے کوصرف اس کا خرچ واپس کیا جائے گا مثلاً بیج اورکھاد کی قیمت یا اگر کرائے پرٹریکٹر لے ہل چلایا ہے توٹریکٹر کا کرایہ وغیرہ۔
اس کی محنت کا اسے کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔
یہ اس کی سزا ہے کہ اسے نہ فصل ملے اورنہ اس کی محنت کا معاوضہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2466]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1366 in Urdu