Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث
باب: ان تین اسباب میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر ہی کسی مسلم کا خون حلال ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1402
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي , وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ , وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ , الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عُثْمَانَ , وَعَائِشَةَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، حلال نہیں سوائے تین باتوں میں سے کسی ایک کے: یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو، یا جان کو جان کے بدلے مارا جائے، یا وہ اپنا دین چھوڑ کر جماعت مسلمین سے الگ ہو گیا ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عثمان، عائشہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدیات 6 (6878)، صحیح مسلم/القسامة 6 (1676)، سنن ابی داود/ الحدود 1 (4351)، سنن النسائی/المحاربة 5 (4021)، سنن ابن ماجہ/الحدود1 (2534)، (تحفة الأشراف: 9567)، و مسند احمد (1/382، 428، 444، 465) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام نے انسانی جانوں کی حفاظت نیز ان کی بقا اور امن و امان کا سب سے زیادہ پاس و لحاظ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ شرک کے بعد کسی نفس کا قتل اسلام میں عظیم تر گناہ ہے، اسی لیے شارع حکیم نے کسی مسلمان کا قتل تین چیزوں میں سے کسی ایک کے پائے جانے ہی کی صورت میں حلال کیا ہے: (۱) کسی آزاد شخص کا شادی شدہ ہو کر زنا کرنا، (۲) جان بوجھ کر کسی معصوم انسان کو ظلم و زیادتی کے ساتھ قتل کرنا (۳) اسلام سے پھر جانا کیونکہ ایسے شخص کا دل خیر سے اس طرح خالی ہو جاتا ہے کہ حق بات قبول کرنے کی اس میں صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2534)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عبد الله بن مرة الهمداني
Newعبد الله بن مرة الهمداني ← مسروق بن الأجدع الهمداني
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عبد الله بن مرة الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥هناد بن السري التميمي، أبو السري
Newهناد بن السري التميمي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6878
لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث النفس بالنفس الثيب الزاني المارق من الدين التارك للجماعة
صحيح مسلم
4375
لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث الثيب الزاني النفس بالنفس التارك لدينه المفارق للجماعة
جامع الترمذي
1402
لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث الثيب الزاني النفس بالنفس التارك لدينه المفارق للجماعة
سنن أبي داود
4352
لا يحل دم رجل مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث الثيب الزاني النفس بالنفس التارك لدينه المفارق للجماعة
سنن النسائى الصغرى
4725
لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث النفس بالنفس الثيب الزاني التارك دينه المفارق
سنن ابن ماجه
2534
لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا أحد ثلاثة نفر النفس بالنفس الثيب الزاني التارك لدينه المفارق للجماعة
بلوغ المرام
993
لا يحل دم امرىء مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث : الثيب الزاني والنفس بالنفس والتارك لدينه المفارق للجماعة
مسندالحميدي
119
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1402 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1402
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
دیگر مذاہب کے مقابلے میں اسلام نے انسانی جانوں کی حفاظت نیز ان کی بقا اور امن و امان کا سب سے زیادہ پاس ولحاظ رکھا ہے،
یہی وجہ ہے کہ شرک کے بعد کسی نفس کا قتل اسلام میں عظیم ترگناہ ہے،
اسی لیے شارع حکیم نے کسی مسلمان کا قتل تین چیزوں میں سے کسی ایک کے پائے جانے ہی کی صورت میں حلال کیا ہے:

(1)
کسی آزاد شخص کا شادی شدہ ہوکر زنا کرنا،

(2)
جان بوجھ کر کسی معصوم انسان کو ظلم وزیادتی کے ساتھ قتل کرنا
(3)
اسلام سے پھرجانا کیوں کہ ایسے شخص کا دل خیر سے اس طرح خالی ہوجاتاہے کہ حق بات قبول کرنے کی اس میں صلاحیت باقی نہیں رہتی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1402]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4725
قصاص کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا خون بہانا جائز تین صورتوں کے علاوہ جائز نہیں ہے: جان کے بدلے جان ۱؎، جس کا نکاح ہو چکا ہو وہ زنا کرے، جو دین چھوڑ دے اور اس سے پھر جائے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4725]
اردو حاشہ:
(1) اسلام نے قصاص مشروع قرار دیا ہے، البتہ ورثاء مقتول معافی پر راضی ہو جائیں تو دیت ادا کرنی ہوگی، لیکن صرف یہ قتل عمد میں ہوتا ہے، قتل خطا میں نہیں۔ قتل خطا یہ ہے کہ گولی تو چلائی گئی کسی جانور پر مگر اچانک کوئی شخص آگے آ گیا اور گولی اسے لگ گئی یا یہ سمجھ کر گولی چلائی گئی کہ یہ کوئی جانور ہے، گولی معلوم ہوا کہ یہ تو انسان ہے۔ ایسی صورت میں قصاص نہیں ہوگا، البتہ دیت دینا ضروری ہے کیونکہ مسلمانوں کا خون رائیگاں نہیں ہو سکتا۔
(2) قصاص کا ڈر قاتل کو قتل سے روکتا ہے، نیز قصاص لینے سے ناحق خون ریزی سے بچت ہوتی ہے۔ لڑائی نہیں پھیلتی۔
(3) قصاص کا عام قانون یہی ہے جو حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے، تاہم اگر کوئی شخص کسی پر ناجائز طور پر قاتلہ حملے کرے اور پھر دفاع میں حملہ آور مارا جائے تو ایسے شخص سے بھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4725]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2534
تین صورتوں کے علاوہ مسلمان کا قتل حرام اور ناجائز ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کا جو صرف اللہ کے معبود برحق ہونے، اور میرے اللہ کا رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو، خون کرنا حلال نہیں، البتہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات ہو تو حلال ہے: اگر اس نے کسی کی جان ناحق لی ہو، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہوا ہو، یا اپنے دین (اسلام) کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو گیا ہو (یعنی مرتد ہو گیا ہو)، (تو ان تین صورتوں میں اس کا خون حلال ہے) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2534]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
   مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ترک کرکے مسلمانوں سے خارج ہو جاتا ہے اور کوئی دوسرا مذہب اختیار کر کے کافروں میں شمار ہوجاتا ہے اس سے مسلمانوں کی کوئی تنظیم مراد نہیں ہے جو دین کی خدمت تبلیغ یا جہاد وغیرہ کے نقطہ نظر سے قائم کی گئی اور ہر مسلمان اس میں رضا کارانہ طور پر داخل ہوسکتا ہے۔
ایک مسلمان جس طرح اس قسم کسی تنظیم میں شامل ہونے سے پہلے مسلمان ہوتا ہے اسے خارج ہونے کے بعد بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔
ایسے مسلمان کو باغی بھی قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ تنظیمیں اسلامی سلطنت کے حکم میں نہیں جس سے بغاوت کی سزاموت ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2534]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6878
6878. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو تین امور کے سوا اس کا خون کرنا جائز نہیں: ایک جان کے بدلے جان، دوسرا شادی شدہ زانی اور تیسرا دین سے نکلنے والا، جماعت کو چھوڑنے والا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6878]
حدیث حاشیہ:
(1)
مذکورہ بالا آیت کے متعلق ایک بنیادی بات یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی حکم جو تورات میں یہود کو دیا گیا ہو اور قرآن اسے یوں بیان کرے کہ اس میں کسی ترمیم وتنسیخ کا ذکر نہ ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نکیر ہی فرمائی ہو تو وہ حکم بعینہٖ مسلمانوں کے لیے بھی قابل عمل ہوگا اگرچہ قرآن اسے مسلمانوں کے لیے الگ بیان نہ کرے جیسا کہ رجم کا حکم ہے۔
(2)
اس آیت میں قصاص کی جو صورت بیان ہوئی ہے، احادیث میں اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں ہے اور یہودی کا سرکچلنے والی حدیث بھی اس موقف کی تائید کرتی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ خوارج اور باغیوں کو قتل کرنا جائز ہے کیونکہ وہ جماعت المسلمین سےعلیحدگی اختیار کرنے والےہیں۔
(عمدة القاري: 149/16) (3)
واضح رہے کہ مذکورہ حدیث میں قتل کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں، ان کے علاوہ اور بھی صورتیں ہیں جن میں قتل کرنا جائز ہے اگرچہ تکلف کے ساتھ باقی صورتوں کو ان تین صورتوں میں داخل کیا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6878]