🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ما جاء في الحبس في التهمة
باب: کسی تہمت و الزام میں گرفتار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ , ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بَهْزٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , هَذَا الْحَدِيثَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تہمت ۱؎ کی بنا پر قید کیا، پھر (الزام ثابت نہ ہونے پر) اس کو رہا کر دیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۲- بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے،
۳- اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأقضیة 29 (3630)، سنن النسائی/قطع السارق 2 (4890)، (تحفة الأشراف: 11382) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس تہمت اور الزام کے کئی سبب ہو سکتے ہیں: اس نے جھوٹی گواہی دی ہو گی، یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعویٰ پیش کیا ہو گا، یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہو گا، پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا ہو گا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید و بند کرنا ایک شرعی امر ہے۔
۲؎: پوری حدیث کے لیے دیکھئیے سنن ابی داود حوالہ مذکور۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (3785)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملكثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← بهز بن حكيم القشيري
ثقة حجة حافظ
👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيم
Newمعاوية بن حيدة القشيري ← إسماعيل بن علية الأسدي
صحابي
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي
Newحكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك
Newبهز بن حكيم القشيري ← حكيم بن معاوية البهزي
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← بهز بن حكيم القشيري
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥علي بن سعيد الكندي، أبو الحسن
Newعلي بن سعيد الكندي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1417
حبس رجلا في تهمة ثم خلى عنه
سنن أبي داود
3630
حبس رجلا في تهمة
سنن النسائى الصغرى
4880
حبس ناسا في تهمة
سنن النسائى الصغرى
4880
حبس رجلا في تهمة ثم خلى سبيله
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1417 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1417
اردو حاشہ:
وضاخت:


1؎:
اس تہمت اورالزام کے کئی سبب ہوسکتے ہیں:
اس نے جھوٹی گواہی دی ہوگی،
یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعوی پیش کیا ہوگا،
یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہوگا،
پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کر دیا گیا ہو گا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید وبند کرنا ایک شرعی امر ہے۔

2؎:
پوری حدیث کے لیے دیکھئے سنن ابی داؤد حوالہ ٔ مذکور۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1417]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3630
قرض وغیرہ کی وجہ سے کسی کو قید کرنے کا بیان۔
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک الزام میں ایک شخص کو قید میں رکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3630]
فوائد ومسائل:
فائدہ: جس شخص پر الزام ہو مگر حقیقت واضح نہ ہو تو اسے حقیقت واضح ہونے تک تحقیق کی غرض سے مختصر وقت کے لئے قید کرنا جائز ہے۔
تاہم قید کاعرصہ بلاوجہ غیر معمولی طور پر لمبا کرنا (جیسا کہ آج کل معمول ہے۔
) شرعا ً محل نظر ہے، اس سے بہت سے مفاسد جنم لیتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3630]

Sunan at-Tirmidhi Hadith 1417 in Urdu