سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء في الستر على المسلم
باب: مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1426
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ , وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ , كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ , وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً , فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ , وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا , سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1426]
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1426]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 3 (2442)، والإکراہ 7 (6951)، صحیح مسلم/البر والصلة 15 (2508)، (تحفة الأشراف: 6877) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اللہ تعالیٰ کے فرمان: «إنما المؤمنون إخوة» (الحجرات: ۱۰) کا بھی یہی مفہوم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (504)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥عقيل بن خالد الأيلي، أبو خالد عقيل بن خالد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← عقيل بن خالد الأيلي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2442
| المسلم أخو المسلم لا يظلمه لا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كربات يوم القيامة من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة |
صحيح البخاري |
6951
| المسلم أخو المسلم لا يظلمه لا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته |
صحيح مسلم |
6578
| المسلم أخو المسلم لا يظلمه لا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة |
جامع الترمذي |
1426
| المسلم أخو المسلم لا يظلمه لا يسلمه من كان في حاجة أخيه كان الله في حاجته من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كرب يوم القيامة من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة |
سنن أبي داود |
4893
| المسلم أخو المسلم لا يظلمه لا يسلمه من كان في حاجة أخيه الله في حاجته من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة من ستر مسلما ستره الله يوم القيامة |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1426 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1426
اردو حاشہ:
وضاخت:
1؎:
اللہ تعالیٰ کے فرمان:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10) کا بھی یہی مفہوم ہے۔
وضاخت:
1؎:
اللہ تعالیٰ کے فرمان:
﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10) کا بھی یہی مفہوم ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1426]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4893
بھائی چارے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4893]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4893]
فوائد ومسائل:
دوسرے مسلمان بہن بھائیوں، عزیزوں، رشتے داروں، ہمسائیوں اور احباب کے احوال کی خبر رکھنی چاہیئے۔
بالخصوص مشکلات میں ان سے بے پر واہ ہو جانا اور اُنھیں انکے احوال پر چھوڑ دینا خلافِ شریعت اور بہت بری خصلت ہے۔
دوسرے مسلمان بہن بھائیوں، عزیزوں، رشتے داروں، ہمسائیوں اور احباب کے احوال کی خبر رکھنی چاہیئے۔
بالخصوص مشکلات میں ان سے بے پر واہ ہو جانا اور اُنھیں انکے احوال پر چھوڑ دینا خلافِ شریعت اور بہت بری خصلت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4893]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6578
حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ(ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمان،مسلمان کابھائی ہے،نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی بے یارومددگار چھوڑتا ہے،جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے،اللہ اس کی حاجت روائی کرتاہے اور جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت دور کرتا ہے،اللہ تعالیٰ قیامت کے مصائب میں سے کوئی مصیبت اس کے باعث دور فرمائے گا۔اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتاہے،اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6578]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
مسلمان بھائی کا جائزہ کام میں تعاون کرنا،
اس کی ضرورت کو پورا کرنا،
درحقیقت اپنی ضرورت و حاجت کو پورا کرنا ہے،
کیونکہ اگر ہم کسی کی جائز ضرورت پوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری حاجتیں پوری فرمائے گا،
اسی طرح ہم اگر کسی کی کوئی مشکل حل کرتے ہیں،
اس کی مصیبت میں آنے والے درہمے،
قدمے سخنے کسی صورت میں بھی تعاون کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہماری مصیبت کا ازلہ فرمائے گا،
اس طرح اگر کوئی شخص اور انفرادی طور پر کبھی کسی غلطی کا ارتکاب کر لیتا ہے اور یہ لغزش اس کی عادت یا وطیرہ نہیں ہے اور اس سے دوسرے متاثر نہیں ہوتے،
وہ خود بھی اس پر شرمسار ہے تو اس کی غلطی کی پردہ پوشی کرنا مطلوب ہے،
لیکن اگر وہ بار بار اس کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے،
پھر اس کا پردہ چاک کرنا پسندیدہ ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
مسلمان بھائی کا جائزہ کام میں تعاون کرنا،
اس کی ضرورت کو پورا کرنا،
درحقیقت اپنی ضرورت و حاجت کو پورا کرنا ہے،
کیونکہ اگر ہم کسی کی جائز ضرورت پوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری حاجتیں پوری فرمائے گا،
اسی طرح ہم اگر کسی کی کوئی مشکل حل کرتے ہیں،
اس کی مصیبت میں آنے والے درہمے،
قدمے سخنے کسی صورت میں بھی تعاون کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہماری مصیبت کا ازلہ فرمائے گا،
اس طرح اگر کوئی شخص اور انفرادی طور پر کبھی کسی غلطی کا ارتکاب کر لیتا ہے اور یہ لغزش اس کی عادت یا وطیرہ نہیں ہے اور اس سے دوسرے متاثر نہیں ہوتے،
وہ خود بھی اس پر شرمسار ہے تو اس کی غلطی کی پردہ پوشی کرنا مطلوب ہے،
لیکن اگر وہ بار بار اس کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے،
پھر اس کا پردہ چاک کرنا پسندیدہ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6578]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6951
6951. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے کسی دوسرے کے حوالے ہی کرتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی دوسری ضروریات پوری کرے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6951]
حدیث حاشیہ:
اسی حدیث کی رو سے اہل اللہ نے دوسرے حاجت مندوں کے لیے جہاں تک ان سے ہو سکا، کوشش کی ہے۔
اللہ رب العالمین بخاری شریف مطالعہ کرنے والے ہر بھائی بہن کو اس حدیث شریف پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
اسی حدیث کی رو سے اہل اللہ نے دوسرے حاجت مندوں کے لیے جہاں تک ان سے ہو سکا، کوشش کی ہے۔
اللہ رب العالمین بخاری شریف مطالعہ کرنے والے ہر بھائی بہن کو اس حدیث شریف پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6951]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2442
2442. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، لہذا نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظلم کے حوالے ہی کرے۔ اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں مصروف ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت دور کرے گا، نیز جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2442]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں ترغیب ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں تعاون اور اچھا معاملہ کرنا چاہیے اور جو گناہ کسی سے سرزد ہو جائے اس کی پردہ پوشی کی جائے، البتہ وہ گناہ جو انسان سے سرزد ہو سکتے ہیں اور خطرہ ہے کہ اگر مسلمان بھائی کو بروقت متنبہ نہ کیا تو وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے گا تو ایسے گناہ سے اسے روکنا ضروری ہے۔
حدیث کے راویوں پر جرح و تعدیل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
اس سلسلے میں پردہ پوشی سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان پر جرح کرنا غیبت میں شمار نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر کسی کے متعلق گواہی دینی پڑے تو بھی ٹھیک ٹھیک گواہی دینی چاہیے کیونکہ درست گواہی معاشرے کا حق ہے۔
ایسے حالات میں اسے قانون سے چھپانے کی کوشش کرنا اور مجرم کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان کو کسی دوسرے شخص کی غیبت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے کسی کی پردہ دری ہوتی ہے، اس طرح انسان خود اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔
(فتح الباري: 121/5)
(1)
اس حدیث میں ترغیب ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں تعاون اور اچھا معاملہ کرنا چاہیے اور جو گناہ کسی سے سرزد ہو جائے اس کی پردہ پوشی کی جائے، البتہ وہ گناہ جو انسان سے سرزد ہو سکتے ہیں اور خطرہ ہے کہ اگر مسلمان بھائی کو بروقت متنبہ نہ کیا تو وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے گا تو ایسے گناہ سے اسے روکنا ضروری ہے۔
حدیث کے راویوں پر جرح و تعدیل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
اس سلسلے میں پردہ پوشی سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان پر جرح کرنا غیبت میں شمار نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر کسی کے متعلق گواہی دینی پڑے تو بھی ٹھیک ٹھیک گواہی دینی چاہیے کیونکہ درست گواہی معاشرے کا حق ہے۔
ایسے حالات میں اسے قانون سے چھپانے کی کوشش کرنا اور مجرم کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان کو کسی دوسرے شخص کی غیبت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے کسی کی پردہ دری ہوتی ہے، اس طرح انسان خود اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔
(فتح الباري: 121/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2442]
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي