الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب ما جاء في كم تقطع يد السارق
باب: کتنے مال کی چوری میں چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟
حدیث نمبر: 1446
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: " قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ سَعْدٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَيْمَنَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ , أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: قَطَعَ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ , وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ , وَعَلِيٍّ , أَنَّهُمَا: قَطَعَا فِي رُبُعِ دِينَارٍ , وَرُوِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , أَنَّهُمَا قَالَا: تُقْطَعُ الْيَدُ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وَالشَّافِعِيِّ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , رَأَوْا الْقَطْعَ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا , وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , أَنَّهُ قَالَ: لَا قَطْعَ إِلَّا فِي دِينَارٍ , أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ , رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , قَالُوا: لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ , أَنَّهُ قَالَ: لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ , وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم ۱؎ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ایمن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان میں ابوبکر رضی الله عنہ بھی شامل ہیں، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا،
۴- عثمان اور علی رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا،
۵- ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا،
۶- بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا،
۷- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن یہ مرسل (یعنی منقطع) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، چنانچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے،
۸- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1446]
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ایمن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان میں ابوبکر رضی الله عنہ بھی شامل ہیں، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا،
۴- عثمان اور علی رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا،
۵- ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا،
۶- بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا،
۷- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن یہ مرسل (یعنی منقطع) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، چنانچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے،
۸- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحدود 13 (6795)، صحیح مسلم/الحدود 1 (1686)، سنن ابی داود/ الحدود 11 (4385)، سنن النسائی/قطع السارق 8 (4912)، سنن ابن ماجہ/الحدود 22 (2584)، التحفة: 8278)، موطا امام مالک/الحدود 7 (21)، و مسند احمد (2/6، 54، 64، 80، 143)، سنن الدارمی/الحدود 4 (2347) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آج کے وزن کے اعتبار سے ایک درہم (چاندی) تقریباً تین گرام کے برابر ہے، معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار (سونا): یعنی تین درہم (چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2584)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6795
| قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
صحيح البخاري |
6798
| قطع النبي يد سارق في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
صحيح البخاري |
6796
| قطع النبي في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
صحيح البخاري |
6797
| قطع النبي في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
صحيح مسلم |
4406
| قطع سارقا في مجن قيمته ثلاثة دراهم |
جامع الترمذي |
1446
| في مجن قيمته ثلاثة دراهم |
سنن أبي داود |
4386
| قطع يد رجل سرق ترسا من صفة النساء ثمنه ثلاثة دراهم |
سنن أبي داود |
4385
| قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
سنن النسائى الصغرى |
4911
| قطع رسول الله في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
سنن النسائى الصغرى |
4912
| قطع في مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
سنن النسائى الصغرى |
4913
| قطع يد سارق سرق ترسا من صفة النساء ثمنه ثلاثة دراهم |
سنن النسائى الصغرى |
4915
| قطع في مجن قيمته ثلاثة دراهم |
سنن النسائى الصغرى |
4911
| قطع رسول الله في مجن قيمته خمسة دراهم |
سنن ابن ماجه |
2584
| قطع النبي في مجن قيمته ثلاثة دراهم |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
528
| قطع سارقا فى مجن ثمنه ثلاثة دراهم |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1446 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1446
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آج کے وزن کے اعتبار سے ایک درہم (چاندی) تقریبا تین گرام کے برابر ہے،
معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار (سونا):
یعنی تین درہم (چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
وضاحت:
1؎:
آج کے وزن کے اعتبار سے ایک درہم (چاندی) تقریبا تین گرام کے برابر ہے،
معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار (سونا):
یعنی تین درہم (چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1446]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث موطا امام مالك رواية ابن القاسم 528
چور کا ہاتھ کاٹنے کا بیان
«. . . 246- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قطع سارقا فى مجن ثمنه ثلاثة دراهم. قال مالك: والمجن الدرقة والترس. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چور کا (دایاں) ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جس نے تین درہم کی قیمت والی ڈھال چرائی تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجن چمڑے یا لوہے کی ڈھال کو کہتے ہیں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 528]
«. . . 246- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قطع سارقا فى مجن ثمنه ثلاثة دراهم. قال مالك: والمجن الدرقة والترس. . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چور کا (دایاں) ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جس نے تین درہم کی قیمت والی ڈھال چرائی تھی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مجن چمڑے یا لوہے کی ڈھال کو کہتے ہیں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 528]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 6795، ومسلم 6/1686، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ تین درہم (ربع دینار) سے کم چوری میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔
➋ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا جس نے ایک دینار یا دس درہم کی چوری کی تھی۔ دیکھئے [سنن ابي داود 4387]
اس روایت کی سند محمد بن اسحاق بن یسار مدلس کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاقطع فى ثمر ولا كثر] پھل اور گابھے چرانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [مسند الحميدي بتحقيق: 408، وسنده صحيح، ورواه الترمذي: 1449، وغيره و صحيحه ابن حبان: 4449يا 4466، وابن الجاردد: 826]
محدث ابوعوانہ وضاح بن عبداللہ الیشکری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں ابوحنیفہ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی نے سوال پوچھا: ایک آدمی نے کھجوریں چرائی ہیں۔ ابوحنیفہ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کٹنا چاہئے۔ میں نے اس آدمی سے کہا: یہ بات نہ لکھو، یہ عالم کی غلطی ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل اور گابھے چرانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (امام) ابوحنیفہ نے اس آدمی سے فرمایا: میرے فتوے کو کاٹ دو اور لکھو: ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [كتاب السنة لعبدالله بن أحمد بن حنبل: 380 وسنده صحيح،]
معلوم ہوا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ صحیح حدیث کے قائل وفاعل تھے اور اس کے ساتھ قرآن مجید کی تخصیص کے بھی قائل تھے۔ حق کی طرف رجوع کرنا، اہلِ ایمان کی نشانی ہے۔
تفقه:
➊ تین درہم (ربع دینار) سے کم چوری میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔
➋ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا جس نے ایک دینار یا دس درہم کی چوری کی تھی۔ دیکھئے [سنن ابي داود 4387]
اس روایت کی سند محمد بن اسحاق بن یسار مدلس کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاقطع فى ثمر ولا كثر] پھل اور گابھے چرانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [مسند الحميدي بتحقيق: 408، وسنده صحيح، ورواه الترمذي: 1449، وغيره و صحيحه ابن حبان: 4449يا 4466، وابن الجاردد: 826]
محدث ابوعوانہ وضاح بن عبداللہ الیشکری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں ابوحنیفہ کے پاس موجود تھا کہ ایک آدمی نے سوال پوچھا: ایک آدمی نے کھجوریں چرائی ہیں۔ ابوحنیفہ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کٹنا چاہئے۔ میں نے اس آدمی سے کہا: یہ بات نہ لکھو، یہ عالم کی غلطی ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھل اور گابھے چرانے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (امام) ابوحنیفہ نے اس آدمی سے فرمایا: میرے فتوے کو کاٹ دو اور لکھو: ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ [كتاب السنة لعبدالله بن أحمد بن حنبل: 380 وسنده صحيح،]
معلوم ہوا کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ صحیح حدیث کے قائل وفاعل تھے اور اس کے ساتھ قرآن مجید کی تخصیص کے بھی قائل تھے۔ حق کی طرف رجوع کرنا، اہلِ ایمان کی نشانی ہے۔
[موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 246]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4911
مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4911]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4911]
اردو حاشہ:
(1) کتنی مالیت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ مذکورہ باب کے تحت بیا ن کی گئی پہلی روایت (4910) میں ڈھال کی قیمت پانچ درہم بیان کی گئی ہے یہ قطعا درست نہیں یہ راوی کا وہم اور اس کی غلطی ہے۔ دیگر صحیح روایات میں ڈھال کی قیمت تین درہم بیان کی گئی ہے جیسا کہ آئندہ روایت میں ہے۔ پانچ درہم والی روایت شاذ (ضعیف) ہے کیونکہ اس کے راوی مخلد نے اپنے سے اوثق واحفظ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے یہ روایت بیان کی تو قیمت تین درہم بیان کی ہے جبکہ یہ پانچ درہم بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ ڈھال کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے مگر چونکہ یہ ایک ہی روایت کی دو سندیں ہیں لہٰذا ایک کو راوی کی غلطی کہا جائے گا۔ ویسے اگر دونوں روایات صحیح ہوں تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ تین درہم یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز سو درہم کی ہو تو اس میں بھی کاٹا جائے گا، اگر لاکھ درہم کی ہو تب بھی لہذا پانچ درہم میں ہاتھ کاٹنے سے تین درہم میں ہاتھ کاٹنے کی نفی نہیں ہوتی۔ البتہ تین درہم سے کم میں ہاتھ کاٹنے کا کہیں ذکر نہیں، لہذا تین درہم اور ربع دینار میں کوئی فرق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دینار دس، بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ بارہ کا چوتھائی تو تین ہی ہے۔ دس کا ربع بھی تین دینار ہی کو کہا جائے گا کیونکہ شریعت کسر پر حکم نہیں لگاتی بلکہ اسے پورا کر دیتی ہے، یعنی ڈھائی درہم کی بجائے تین درہم پر قطع ید کا حکم لگے گا۔ تین درہم اور ربع دینار کی روایات قطعا صحیح اور بخاری ومسلم کی ہیں، اس لیے انہی پر عمل ہوگا۔ احناف نے بعض ضعیف روایات کی بنا پر نصاب مسروقہ دس درہم مقرر کیا ہے۔ یہ بات سراسر اصول کے خلاف ہے کہ صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف روایت کو ترجیح دی جائے۔ اگرچہ احناف نے اسے احتیاط قرار دیا ہے مگر یہ عجیب احتیاط ہے جس سے شریعت کا صحیح اور صریح حکم کالعدم ہو جائے۔
(1) کتنی مالیت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ مذکورہ باب کے تحت بیا ن کی گئی پہلی روایت (4910) میں ڈھال کی قیمت پانچ درہم بیان کی گئی ہے یہ قطعا درست نہیں یہ راوی کا وہم اور اس کی غلطی ہے۔ دیگر صحیح روایات میں ڈھال کی قیمت تین درہم بیان کی گئی ہے جیسا کہ آئندہ روایت میں ہے۔ پانچ درہم والی روایت شاذ (ضعیف) ہے کیونکہ اس کے راوی مخلد نے اپنے سے اوثق واحفظ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے یہ روایت بیان کی تو قیمت تین درہم بیان کی ہے جبکہ یہ پانچ درہم بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ ڈھال کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے مگر چونکہ یہ ایک ہی روایت کی دو سندیں ہیں لہٰذا ایک کو راوی کی غلطی کہا جائے گا۔ ویسے اگر دونوں روایات صحیح ہوں تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ تین درہم یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز سو درہم کی ہو تو اس میں بھی کاٹا جائے گا، اگر لاکھ درہم کی ہو تب بھی لہذا پانچ درہم میں ہاتھ کاٹنے سے تین درہم میں ہاتھ کاٹنے کی نفی نہیں ہوتی۔ البتہ تین درہم سے کم میں ہاتھ کاٹنے کا کہیں ذکر نہیں، لہذا تین درہم اور ربع دینار میں کوئی فرق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دینار دس، بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ بارہ کا چوتھائی تو تین ہی ہے۔ دس کا ربع بھی تین دینار ہی کو کہا جائے گا کیونکہ شریعت کسر پر حکم نہیں لگاتی بلکہ اسے پورا کر دیتی ہے، یعنی ڈھائی درہم کی بجائے تین درہم پر قطع ید کا حکم لگے گا۔ تین درہم اور ربع دینار کی روایات قطعا صحیح اور بخاری ومسلم کی ہیں، اس لیے انہی پر عمل ہوگا۔ احناف نے بعض ضعیف روایات کی بنا پر نصاب مسروقہ دس درہم مقرر کیا ہے۔ یہ بات سراسر اصول کے خلاف ہے کہ صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف روایت کو ترجیح دی جائے۔ اگرچہ احناف نے اسے احتیاط قرار دیا ہے مگر یہ عجیب احتیاط ہے جس سے شریعت کا صحیح اور صریح حکم کالعدم ہو جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4911]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4911
مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4911]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی روایت صحیح اور درست ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4911]
اردو حاشہ:
(1) کتنی مالیت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ مذکورہ باب کے تحت بیا ن کی گئی پہلی روایت (4910) میں ڈھال کی قیمت پانچ درہم بیان کی گئی ہے یہ قطعا درست نہیں یہ راوی کا وہم اور اس کی غلطی ہے۔ دیگر صحیح روایات میں ڈھال کی قیمت تین درہم بیان کی گئی ہے جیسا کہ آئندہ روایت میں ہے۔ پانچ درہم والی روایت شاذ (ضعیف) ہے کیونکہ اس کے راوی مخلد نے اپنے سے اوثق واحفظ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے یہ روایت بیان کی تو قیمت تین درہم بیان کی ہے جبکہ یہ پانچ درہم بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ ڈھال کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے مگر چونکہ یہ ایک ہی روایت کی دو سندیں ہیں لہٰذا ایک کو راوی کی غلطی کہا جائے گا۔ ویسے اگر دونوں روایات صحیح ہوں تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ تین درہم یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز سو درہم کی ہو تو اس میں بھی کاٹا جائے گا، اگر لاکھ درہم کی ہو تب بھی لہذا پانچ درہم میں ہاتھ کاٹنے سے تین درہم میں ہاتھ کاٹنے کی نفی نہیں ہوتی۔ البتہ تین درہم سے کم میں ہاتھ کاٹنے کا کہیں ذکر نہیں، لہذا تین درہم اور ربع دینار میں کوئی فرق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دینار دس، بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ بارہ کا چوتھائی تو تین ہی ہے۔ دس کا ربع بھی تین دینار ہی کو کہا جائے گا کیونکہ شریعت کسر پر حکم نہیں لگاتی بلکہ اسے پورا کر دیتی ہے، یعنی ڈھائی درہم کی بجائے تین درہم پر قطع ید کا حکم لگے گا۔ تین درہم اور ربع دینار کی روایات قطعا صحیح اور بخاری ومسلم کی ہیں، اس لیے انہی پر عمل ہوگا۔ احناف نے بعض ضعیف روایات کی بنا پر نصاب مسروقہ دس درہم مقرر کیا ہے۔ یہ بات سراسر اصول کے خلاف ہے کہ صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف روایت کو ترجیح دی جائے۔ اگرچہ احناف نے اسے احتیاط قرار دیا ہے مگر یہ عجیب احتیاط ہے جس سے شریعت کا صحیح اور صریح حکم کالعدم ہو جائے۔
(1) کتنی مالیت کی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا؟ مذکورہ باب کے تحت بیا ن کی گئی پہلی روایت (4910) میں ڈھال کی قیمت پانچ درہم بیان کی گئی ہے یہ قطعا درست نہیں یہ راوی کا وہم اور اس کی غلطی ہے۔ دیگر صحیح روایات میں ڈھال کی قیمت تین درہم بیان کی گئی ہے جیسا کہ آئندہ روایت میں ہے۔ پانچ درہم والی روایت شاذ (ضعیف) ہے کیونکہ اس کے راوی مخلد نے اپنے سے اوثق واحفظ راویوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے یہ روایت بیان کی تو قیمت تین درہم بیان کی ہے جبکہ یہ پانچ درہم بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ ڈھال کی قیمت مختلف ہو سکتی ہے مگر چونکہ یہ ایک ہی روایت کی دو سندیں ہیں لہٰذا ایک کو راوی کی غلطی کہا جائے گا۔ ویسے اگر دونوں روایات صحیح ہوں تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا کیونکہ تین درہم یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اگر کوئی چیز سو درہم کی ہو تو اس میں بھی کاٹا جائے گا، اگر لاکھ درہم کی ہو تب بھی لہذا پانچ درہم میں ہاتھ کاٹنے سے تین درہم میں ہاتھ کاٹنے کی نفی نہیں ہوتی۔ البتہ تین درہم سے کم میں ہاتھ کاٹنے کا کہیں ذکر نہیں، لہذا تین درہم اور ربع دینار میں کوئی فرق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دینار دس، بارہ درہم کا ہوتا تھا۔ بارہ کا چوتھائی تو تین ہی ہے۔ دس کا ربع بھی تین دینار ہی کو کہا جائے گا کیونکہ شریعت کسر پر حکم نہیں لگاتی بلکہ اسے پورا کر دیتی ہے، یعنی ڈھائی درہم کی بجائے تین درہم پر قطع ید کا حکم لگے گا۔ تین درہم اور ربع دینار کی روایات قطعا صحیح اور بخاری ومسلم کی ہیں، اس لیے انہی پر عمل ہوگا۔ احناف نے بعض ضعیف روایات کی بنا پر نصاب مسروقہ دس درہم مقرر کیا ہے۔ یہ بات سراسر اصول کے خلاف ہے کہ صحیح احادیث کے مقابلے میں ضعیف روایت کو ترجیح دی جائے۔ اگرچہ احناف نے اسے احتیاط قرار دیا ہے مگر یہ عجیب احتیاط ہے جس سے شریعت کا صحیح اور صریح حکم کالعدم ہو جائے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4911]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4913
مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چرائی، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4913]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چرائی، جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4913]
اردو حاشہ:
”عورتوں والے چھپر سے“ مسجد نبوی میں عورتوں کے لیے ایک سایہ دار جگہ بنا دی گئی تھی، اسے صفۃ النساء (عورتوں کا چھپر) کہا جاتا تھا۔
”عورتوں والے چھپر سے“ مسجد نبوی میں عورتوں کے لیے ایک سایہ دار جگہ بنا دی گئی تھی، اسے صفۃ النساء (عورتوں کا چھپر) کہا جاتا تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4913]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4915
مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4915]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال (چرانے) پر ہاتھ کاٹا۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4915]
اردو حاشہ:
امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انسؓ سے جو مرفوعا بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال چرانے پر ہاتھ کاٹا تھا، یہ روایت مرفوعا بیان کرنا درست نہیں بلکہ درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف، یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فعل ہے۔ امام حدیث شعبہ ؓ نے قتادہ ؓ سے انہوں نے انسؓ سے موقوفا ہی بیان کیا ہے جیسا کہ اگلی روایت (4916) میں صراحت ہے اور اس موقوف روایت کو امام نسائی رحمہ اللہ نے صحیح اور درست قرار دیا ہے۔
امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ ہشام دستوائی نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انسؓ سے جو مرفوعا بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈھال چرانے پر ہاتھ کاٹا تھا، یہ روایت مرفوعا بیان کرنا درست نہیں بلکہ درست یہ ہے کہ یہ روایت موقوف، یعنی حضرت ابوبکر صدیقؓ کا فعل ہے۔ امام حدیث شعبہ ؓ نے قتادہ ؓ سے انہوں نے انسؓ سے موقوفا ہی بیان کیا ہے جیسا کہ اگلی روایت (4916) میں صراحت ہے اور اس موقوف روایت کو امام نسائی رحمہ اللہ نے صحیح اور درست قرار دیا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4915]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4386
چور کا ہاتھ کتنے مال کی چوری میں کاٹا جائے؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4386]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترہ سے ایک ڈھال چرائی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4386]
فوائد ومسائل:
تین درہم ان دنوں ایک دینار کے چوتھائی ہی کے برابرتھے جیسےکہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے۔
تین درہم ان دنوں ایک دینار کے چوتھائی ہی کے برابرتھے جیسےکہ درج ذیل روایت میں آرہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4386]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6795
6795. حضرت عبدااللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کے چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ محمد بن اسحاق نے مالک بن انس کی متابعت کی ہے اور لیث نے نافع سے ثمنه کی جگہ قیمته کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6795]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ کم از کم بارہ آنہ کی مالیت کی چیز پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور ایسے امور امام وقت یا اسلامی عدالت کے مقدمہ کی پوزیشن سمجھنے پر موقوف ہیں۔
واللہ أعلم بالصواب۔
(بارہ آنہ مولانا موصوف شائد اپنے وقت کے حساب سے کہتے ہیں جب سکے چاندی کے ہوتے تھے۔
اب روپے کے حساب سے یہ مقدار نہیں ہے، تونسوی)
معلوم ہوا کہ کم از کم بارہ آنہ کی مالیت کی چیز پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور ایسے امور امام وقت یا اسلامی عدالت کے مقدمہ کی پوزیشن سمجھنے پر موقوف ہیں۔
واللہ أعلم بالصواب۔
(بارہ آنہ مولانا موصوف شائد اپنے وقت کے حساب سے کہتے ہیں جب سکے چاندی کے ہوتے تھے۔
اب روپے کے حساب سے یہ مقدار نہیں ہے، تونسوی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6795]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6798
6798. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک اورمزید روایت ہے ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال چوری کرنے پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ محمد بن اسحاق نے نافع سے روایت کرنے میں موسیٰ بن عقبہ کی متابعت کی ہے۔ لیث نے کہا: مجھ سے نافع نے ثمنه کے بجائے قِیمتُه کے الفاظ ذکر کیے ہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6798]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک دینار، بارہ درہم کے برابر تھا، چنانچہ سنن بیہقی میں اس کی وضاحت ہے کہ ربع دیناران دنوں تین درہم کے مساوی ہوتا تھا اور دینار، بارہ درہم کے برابر تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 255/8)
غالباً اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چاندی والوں پر دیت کی مقدار بارہ ہزار درہم اور سونے والوں پر ایک ہزار دینار مقرر کی تھی۔
(السنن الکبریٰ للبیھقی: 8/256) (2)
درہم، چاندی کا ڈھلا ہوا ایک ایسا سکہ ہے جسے عرب لین دین کے معاملات میں استعمال کرتے تھے۔
اس کی جمع دراہم ہے۔
ایک درہم تین ماشے اور 1 1/5رتی کے برابر ہوتا ہے۔
ہمارے برصغیر میں دو سو درہم تقریباً ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہیں، چنانچہ ہم جب ساڑھے باون تولے کو دوسو درہم پر تقسیم کرتے ہیں تو ایک درہم کا وزن 21/80 بنتا ہے جو تین ماشے اور1 1/5 رتی کے برابر ہے۔
اعشاری نظام کے مطابق 3.061 گرام ہے۔
چوری کا نصاب تین درہم ہے۔
جب اسے تین ماشے اور 1 1/5 سے ضرب دی تو نو ماشے 3 3/5 رتی وزن بنتا ہے۔
(3)
اب چونکہ چاندی کی قیمت سونے کے مقابلے میں بہت گر چکی ہے، لہٰذا ہم چوری کے نصاب میں سونے کی قیمت کا اعتبار کریں گے، البتہ زکاۃ دیتے وقت چاندی کا نصاب پیش نظر رکھنا ہوگا، یعنی اگر ہمارے پاس اتنی کرنسی ہوکہ اس کے ساڑھے باون تولے چاندی خریدی جا سکے تو اس کرنسی پر زکاۃ دینی ہوگی۔
اس میں غرباء اور مساکین کا فائدہ ہے۔
لیکن چوری کے نصاب میں سونے کی قیمت کو سامنے رکھا جائے۔
واللہ أعلم
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک دینار، بارہ درہم کے برابر تھا، چنانچہ سنن بیہقی میں اس کی وضاحت ہے کہ ربع دیناران دنوں تین درہم کے مساوی ہوتا تھا اور دینار، بارہ درہم کے برابر تھا۔
(السنن الکبریٰ للبیھقي: 255/8)
غالباً اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چاندی والوں پر دیت کی مقدار بارہ ہزار درہم اور سونے والوں پر ایک ہزار دینار مقرر کی تھی۔
(السنن الکبریٰ للبیھقی: 8/256) (2)
درہم، چاندی کا ڈھلا ہوا ایک ایسا سکہ ہے جسے عرب لین دین کے معاملات میں استعمال کرتے تھے۔
اس کی جمع دراہم ہے۔
ایک درہم تین ماشے اور 1 1/5رتی کے برابر ہوتا ہے۔
ہمارے برصغیر میں دو سو درہم تقریباً ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہیں، چنانچہ ہم جب ساڑھے باون تولے کو دوسو درہم پر تقسیم کرتے ہیں تو ایک درہم کا وزن 21/80 بنتا ہے جو تین ماشے اور1 1/5 رتی کے برابر ہے۔
اعشاری نظام کے مطابق 3.061 گرام ہے۔
چوری کا نصاب تین درہم ہے۔
جب اسے تین ماشے اور 1 1/5 سے ضرب دی تو نو ماشے 3 3/5 رتی وزن بنتا ہے۔
(3)
اب چونکہ چاندی کی قیمت سونے کے مقابلے میں بہت گر چکی ہے، لہٰذا ہم چوری کے نصاب میں سونے کی قیمت کا اعتبار کریں گے، البتہ زکاۃ دیتے وقت چاندی کا نصاب پیش نظر رکھنا ہوگا، یعنی اگر ہمارے پاس اتنی کرنسی ہوکہ اس کے ساڑھے باون تولے چاندی خریدی جا سکے تو اس کرنسی پر زکاۃ دینی ہوگی۔
اس میں غرباء اور مساکین کا فائدہ ہے۔
لیکن چوری کے نصاب میں سونے کی قیمت کو سامنے رکھا جائے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6798]
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي