سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب ما جاء في حد الساحر
باب: جادوگر کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1460
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جُنْدُبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا , إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ , يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ , قَالَ وَكِيعٌ: هُوَ ثِقَةٌ , وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ أَيْضًا , وَالصَّحِيحُ عَنْ جُنْدَبٍ مَوْقُوفٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ , وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا يُقْتَلُ السَّاحِرُ إِذَا كَانَ يَعْمَلُ فِي سِحْرِهِ مَا يَبْلُغُ بِهِ الْكُفْرَ , فَإِذَا عَمِلَ عَمَلًا دُونَ الْكُفْرِ , فَلَمْ نَرَ عَلَيْهِ قَتْلًا.
جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جادوگر کی سزا تلوار سے گردن مارنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔
۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں،
۳- اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔
۴- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے،
۵- شافعی کہتے ہیں: جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1460]
۱- یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔
۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں،
۳- اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔
۴- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے،
۵- شافعی کہتے ہیں: جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3269) (ضعیف) (سند میں ”اسماعیل بن مسلم“ ضعیف ہیں جیسا کہ مؤلف نے خود صراحت کر سنن الدارمی/ ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (1446) ، المشكاة (3551 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2699) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1460) إسناده ضعيف
وقال البيھقي (136/8) ”إسماعيل بن مسلم ضعيف“ «وتقدم:233»
وقال البيھقي (136/8) ”إسماعيل بن مسلم ضعيف“ «وتقدم:233»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جندب بن كعب الأزدي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← جندب بن كعب الأزدي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥إسماعيل بن مسلم المكي، أبو إسحاق إسماعيل بن مسلم المكي ← الحسن البصري | منكر الحديث | |
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية محمد بن خازم الأعمى ← إسماعيل بن مسلم المكي | ثقة | |
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر أحمد بن منيع البغوي ← محمد بن خازم الأعمى | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1460
| حد الساحر ضربة بالسيف |
سنن ترمذی کی حدیث نمبر 1460 کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1460
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں 'اسماعیل بن مسلم' ضعیف ہیں جیساکہ مؤلف نے خود صراحت کردی ہے)
نوٹ:
(سند میں 'اسماعیل بن مسلم' ضعیف ہیں جیساکہ مؤلف نے خود صراحت کردی ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1460]
الحسن البصري ← جندب بن كعب الأزدي